یوگی نے فرضی ٹیچر معاملہ کا اجاگر کرنے والے آئی پی ایس افسر کو ہٹایا

کانگریس نے اتر پردیش کی یوگی حکومت کو آج پرزور طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ دراصل یو پی میں ٹیچر تقرری میں بے ضابطگی کو سامنے لانے والے سرکردہ پولس افسر کو یوگی حکومت نے ہٹا دیا ہے، جس کی وجہ سے منگل کے روز کانگریس نے ریاستی حکومت پر حملہ کیا اور یہ بھی الزام عائد کیا کہ یہ سب معاملے کو دبانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
پیر کی دیر رات جاری کردہ حکم میں اتر پردیش حکومت نے 13 دیگر آئی پی ایس افسروں کے ساتھ سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ پریاگ راج ستیارتھ انیرودھ پنکج کا بھی تبادلہ کر دیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جتن پرساد نے تبادلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی غلط منشا ہے۔
جتن پرساد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “اتر پردیش میں ٹیچر تقرری میں گھوٹالہ کا انکشاف کرنے والے پریاگ راج کے پولس سپرنٹنڈنٹ ستیارتھ پنکج کو وہاں سے ہٹا کر ویٹنگ لسٹ میں ڈال کر کیا حکومت ایماندار افسروں کا حوصلہ پست کرنا چاہتی ہے؟ کیا حکومت گھوٹالہ میں شامل لوگوں کو بچانا چاہتی ہے؟”
واضح رہے کہ ایس ایس پی پریاگ راج پنکج نے ٹیچر تقرری معاملے میں بے ضابطگی میں شامل گروہ کا پردہ فاش کیا، لیکن معاملہ بعد میں ایس ٹی ایف کے حوالے کر دیا گیا۔ 69 ہزار اسسٹنٹ ٹیچر تقرری معاملے میں درخواست کنندگان دھوکہ دہی کا الزام لگا رہے تھے، لیکن کوئی بھی جانچ کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ایس ایس پی نے کارروائی کی۔
پیر کی دیر رات کو تبادلے کے لیے جاری حکم نامہ کے مطابق کانپور، پیلی بھیت، سیتا پور، شاہجہاں پور، سہارنپور، پریاگ راج، ہاتھرس، اناؤ اور باغپت ضلعوں کے پولس سربراہوں کو بدل دیا گیا ہے۔ پریاگ راج کے ایس ایس پی ستیارتھ انیرودھ کو ویٹنگ لسٹ میں رکھا گیا ہے۔