بی جے پی کے مطابق کانگریس کے پاس امیدوار نہیں،کانگریس نے کہا سندھیا خود ہار گئے 22کو کیا جتائیںگے

بی جے پی-کانگریس کا ایک دوسرے پر سیاسی حملہ:

بھوپال :15جون (نیانظریہ بیورو)
ضمنی انتخابات کو لے کر ریاست میں بی جے پی اور کانگریس نے کمر کس لی ہے۔ اس دوران بی جے پی مسلسل کانگریس میں امیدوار وں کی کمی کی بات کہہ رہی ہے۔ بی جے پی کا ماننا ہے کہ جن علاقوں میں ضمنی انتخابات ہونے ہیں،وہاں کے کانگریس لیڈر باغی ہوکر پہلے ہی ہماری پارٹی میں آچکے ہیں۔ جس سے کانگریس کو تو امیدوار ملنابھی مشکل ہے ۔جس کے جواب میں کانگریس کا کہنا ہے کہ ایک عام لیڈر نے جیوتی رادتیہ سندھیا کو انتخاب ہرا دیا تھا۔وہیں سندھیا پر طنز کستے ہوئے کہا کہ جوخود انتخاب ہار گیا ،وہ22لوگوں کو کیسے جتائے گا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہمارے پاس امیدواروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہمارے پاس ہر سیٹ کے لئے 15سے 20امیدواروں کی درخواست آئی ہیں، جن پر پارٹی غوروخوض کررہی ہے۔
دراصل ضمنی انتخابات کو لے کر جب بھی کانگریس کی تیاریوں کی بات آتی ہے تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ جن سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں ، ان میں کانگریس تمام لیڈران باغی ہوکر بی جے پی میں شامل ہوچکے ہیں۔ ایسے حالات میں کانگریس کے لئے امیدوار تلاش کرنے میں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور کانگریس بی جے پی کے ناراض لوگوں کو اپنی طرف لانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ حالانکہ ان الزامات کو لے کر کانگریس کے پاس بھی اپنے خیالات ہیں۔ کانگریس لیڈر چندر پربھات شیکھر کا کہنا ہے کہ اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتا ہے کہ اس عام لیڈر نے عام انتخابات میں جیوتی رادتیہ سندھیا کو ہرادیا۔ ساتھ ہی سندھیا پر طنز کستے ہوئے کہا کہ جو خود انتخاب نہیں جیت سکتا ہے،وہ 22لوگوں کو انتخابات کیسے جتائیںگے۔انہوں نے کہا کہ 2018کے اسمبلی انتخابات میں ہمارے نوجوان اور نئے امیدواروں نے بی جے پی کے جینت ملیا اور کئی سینئر لیڈران کو دھول چٹادی تھی،اسی لئے ہمارے امیدواروں کو بی جے پی ہلکے میں نہ لے۔