بھوپال میں کورونا کورونا مریضوں کی بڑھتی تعداد کے بیچ محکمہ صحت کی بڑی لاپرواہی


بھوپال:14جون (نیانظریہ بیورو)
راجدھانی بھوپال میں کورونا مثبت مریضوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جسے روکنے کے لئے محکمہ صحت اورضلع انتظامیہ کی ٹیمیں مسلسل کام کررہی ہےں۔ لیکن کسی نہ کسی سطح پر لاپرواہیاں ہونے کے معاملے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی بڑی لاپرواہی ایک مرتبہ پھر سامنے آئی ہے۔ جہاں مثبت مریض کا سیمپل لینے کے 8دن بعد اسے جانچ کے لئے لیب میں بھیجاگیا۔ سنیچر کو 53نئے مریضوںمیں کولار ”سمودایک سواستھ کیندر“ کی ایک خاتون صفائی ملازم کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ جس کے بعد سے ہی افراتفری کا ماحول بن گیا ہے۔ کیونکہ اس خاتون کا سیمپل 5جون کو کولار سی ایچ سی میں ہی لیاگیا تھا اور اسپتال انتظامیہ نے تقریباً 8دن بعد 12جون کو سیمپل جانچ کے لئے بھیجا۔ اس دوران جمعرات تک یہ ملازم اسپتال میں تعینات رہی اور کئی لوگوں کے رابطے میں بھی آئی۔ اس بارے میں کولار اسپتال انتظامیہ کا ماننا یہ ہے کہ سیمپل کلیکشن کے بعد اسے لیب میں بھیجنے کے لئے محکمہ کی طرف سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ سیمپل لینے کے بعد اسے فریج میں محفوظ رکھوادیا گیا تھا۔ جب انتظام ہو اتو ہم نے سیمپل لیب بھیجا۔محکمہ صحت نے شہر کے 13سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے فیور کلینک کے ساتھ ہی سیمپل سینٹر بنائے ہیں۔ لیکن یہاں سے سیمپل لیب بھیجوانے کا کوئی واضح انتظام نہیں کیا گیاہے۔ جس وجہ سے اسپتالوں سے سیمپل جانچ کے لئے لیب میں دیری سے بھیجے جارہے ہیں۔ اور اس دوران جن لوگوں کے سیمپل لئے جارہے ہیں، وہ اپنی رپورٹ آنے کا انتظار کرتے ہیں۔