لاک ڈاﺅن میں تقریباً سب کو رعایت : لیکن گننے کا رس فروخت کرنے والے سیزن کو جاتے دیکھ ہورہے ہیں پریشان

بھوپال:14جون (نیانظریہ بیورو)
لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ہرکوئی متاثرہوا ہے۔لوگوں کی اقتصادی حالت پر اس کا سب سے زیادہ اثر دیکھنے کو ملا ہے۔ جس سے لوگ پریشان ہیں،لیکن ان لاک1.0میں دی گئی چھوٹ سے لوگوں کو کچھ راحت ملی ہے۔ لیکن گرمیوں میں سب سے زیادہ پسند کئے جانے والا اور فروخت ہونے والا گننے کا رس فروخت کرنے والوں کواب تک کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ جس سے انہیں نقصان ہورہا ہے۔واضح رہے کہ گرمی کا موسم گننے کے کسانوں اور اس کا رس فروخت کرنے والوں کے لئے خاص ہوتا ہے۔ ہر چوراہے پر گننے کی چرکھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن اس بار لاک ڈاﺅن کی وجہ سے بھوپال میں گننے کی چرکھیوں کے پہےے تھم گئے ہیں۔ ان لاک 1.0سے سبھی دکانداروں کو رعایت دی گئی ہے،لیکن گننے کا رس فروخت کرنے والوں کو رس فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جس سے گننے کے کاروباری اور جوس فروخت کرنے والوں کو لاکھوں کا نقصان ہورہا ہے۔ دیپ چند بھوپال میں گننے کا رس فروخت کرتے ہیں، ان کے گننے کی 3چرکھیاں تھیں، یہ گرمی کے موسم میں تین چرکھیوں سے تقریباً4لاک روپے انکم کرتے تھے۔ان کا کاروبار صرف گرمیوں کے موسم میں ہی چلتا تھا، لیکن لاک ڈاﺅن لگنے کی وجہ سے تقریباً 80ہزار کے گننے خراب ہوگئے ہیں۔ جنہیں پھینکنا پڑا ہے۔ حکومت سے بھی انہوں نے مدد کی اپیل کی ہے، لیکن انہیں کوئی مدد نہیں ملی ہے۔