شہر کانگریس صدر سمیت متعدد کارکنان کو پولیس نے کیا گرفتار

سی ایم کے آڈیو پر ہوا ہنگامہ :
بغیر اجازت مظاہرہ کرنے پر پولیس نے کی کا رروائی

اندور 12 جون(نیا نظریہ بیورو) وزیر اعلیٰ جناب شیوراج سنگھ چوہان کی مبینہ آڈیو پر برپا ہوا ہنگامہ اب رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جمعہ کے روز ، کانگریس کارکنان احتجاج کیلئے سڑکوں پر اترے۔ مظاہرے کی اجازت نہیں ملنے پر انتظامیہ نے انہیں مظاہرے سے روکا ۔ کانگریس اور انتظامیہ آمنے سامنے آگئے۔ کانگریس کارکنان مظاہرہ کرنے کیلئے بضد تھے ، لیکن انتظامیہ نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ مشتعل کانگریس کارکنان نے انتظامیہ اور وزیر اعلیٰ کے خلاف جم کرنعرے بازی شروع کردی اور سڑک پر بیٹھنے لگے۔ سمجھانے کے بعد بھی کانگریس کارکنان مظاہرے سے نہیں رکے تو پولیس نے کارکنان نے گرفتار کرکے ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا۔کانگریس کا الزام ہے کہ حالیہ قیام کے دوران ، اندور میں وزیر اعلیٰ نے ریزیڈنسی کوٹھی پر شام کو عوامی کارکنان کی ایک میٹنگ کی تھی۔ میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے کہنے پر ایم پی کی کمل ناتھ حکومت کو گرا یا گیا ہے۔ اس میں ان کا ساتھ جیوتی رادتیہ سندھیا اور وزیر تلسی سلاوٹ نے ا س کی حمایت کی۔ کانگریس نے بھی اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس کی۔ اس دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ کا ایک آڈیو بھی جاری کیا۔ مشتعل کانگریس کارکنان صبح 11 بجے کے قریب کلکٹریٹ پہنچے اور مظاہرہ کیا۔ شہر کانگریس کے صدر جناب ونئے باکلیوال کی قیادت میں یہاں پہنچنے والے کانگریس کارکنان نے بی جے پی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔باکلیوال سمیت پولیس نے 30 سے 35 کارکنان کو گرفتار کیا۔ سب کو آزاد نگر کی ڈسٹرکٹ جیل بھیج دیا گیا۔ کانگریس کارکنان نے یہاں کی عارضی جیل میں بھی ہنگامہ کھڑا کردیا۔ شہر کانگریس صدر جناب ونئے باکلیوال نے کہا کہ شیوراج سنگھ چوہان خود اندور آئے اور کہا کہ مرکز کے کہنے پر مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا ہے۔ ہر ایک کے پاس اس کی آڈیو اور ویڈیو ہے۔ کمل ناتھ حکومت کو عوام نے اکثریت والی حکومت کا انتخاب کیا ، جسے سازش کے تحت گرا دیا گیا۔ ہم نے جمعرات کو مظاہرے کی اجازت طلب کی ، لیکن ہمیں اجازت نہیں دی گئی۔ اسی اثنا میں ، بی جے پی کو جمعرات کے دن چورا ہے پرپروگرام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ پانچ افراد کی اجازت دی گئی تھی لیکن 100 افراد چوراہے پر جمع ہو رہے تھے اور ماسک تقسیم کررہے تھے ، لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ڈھائی سو افراد تھانے پہنچ کر محاصرہ کرتے ہیں تو ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے ۔ وزیر ا علیٰ نے خود اعتراف کیا کہ حکومت گرانا ہے۔ ہم صرف میمورنڈم دے رہے تھے ، وہ بھی ہمیں دینے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔