گلزار دہلوی کے انتقال سے اردو کے ایک عہد کا ہوا خاتمہ :عارف مسعود


بھوپال:12جون(نیانظریہ بیورو)
ایم ایل اے عارف مسعود نے گلزار دہلوی کے انتقال پر رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلزار دہلوی کا شمار اردو کے ان شاعروں میں کیا جاتا ہے جن کا ذکر کئے بغیر آزادی کے بعد کی اردو تاریخ کو نہیں لکھا جاسکتا ہے ۔ پنڈت آنند موہن گلزار دہلوی کو اردو کی تعلیم ان کے والد سے ملی تھی، شاعری کا فن بھی انہوں نے اپنے گھر سے ہی سیکھا۔ پنڈت جواہرلال نہرو جی کے خاندان سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ انہوں نے اردو شاعری سے ہمیشہ پیار ،محبت ، بھائی چارے اور دلوں کو جوڑنے کا کام کیا۔کورونا وباءکی وجہ سے نوئیڈا کے شاردا اسپتال میں ان کو داخل کرایا گیا تھا ، جہاں سے وہ کورونا کو شکست دیکر 4د ن قبل ہی اسپتال سے ڈسچارج ہوکر گھر آئے تھے، لیکن دل کا دورہ پڑنے کے بعد انہیں دہلی کے پلاش ہاسپیٹل میں داخل کیا گیا جہاں انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔
واضح رہے کہ گلزار دہلوی کا بھوپال سے کافی گہرا تعلق رہا ہے۔ وہ جب بھی بھوپال آتے عارف مسعودسےملتے اور بیٹھ کر بات کیا کرتے تھے ۔ حال ہی میں شوریہ اسمارک میں عارف مسعود کے ذریعہ منعقد یوم اطفال کے پروگرام میں وہ بطورمہمانِ خصوصی آئے اور پیشکش دینے والے بچوں کو اپنے ہاتھوںسے انعام تقسیم کر اعزازیاب کیا۔ ایم ایل اے عارف مسعود نے گلزار دہلوی کے انتقال کی خبر سن کررنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلزار دہلوی کا انتقال صرف ایک شخص کا انتقال نہیں ہے بلکہ اردو کے ایک باصلاحیت دور کا خاتمہ ہے ۔ یوں تو شاعری کا سلسلہ چلتا رہے گا لیکن اب کوئی دوسرا گلزار نہیں آنے والا ۔ آپ نے اردو شاعری کو ایک اعلیٰ مقام دلایا ۔