مذہب کے نام پر امتیازی سلوک کے خلاف جلد ہی دیا جائےگا میمورنڈم:منور کوثر


بھوپال:11جون(نیانظریہ بیورو)
کورونا وباءکے دوران ریاست میں وہ نظارے دکھائی دے رہے ہیں ، جن سے اس ریاست کا کبھی تعلق ہی نہیں رہا ہے۔ چوتھی مرتبہ اقتدار پر قابض ہوئے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان بھی اس مدت میں محض کٹھ پتلی بنے نظر آرہے ہیں۔ آپسی بھائی چارے کے لئے پہچان رکھنے والے اس ریاست میں اب نفرتوں کو ہوا دینے والے بن گئے ہیں۔ مذہب اور ذات کے نام پر امتیاز کے حالات دکھائی دینے لگے ہیں۔ ان حالات میں مسلم اقلیت خود کو بے چین محسوس کرنے لگی ہے۔ وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے دوراقتدار میں اس طرح کے واقعات ہونگے ایسا کبھی سوچابھی نہیں جاسکتا تھا۔ جلد ہی حالات پر قابو نہیں پایا گیا تو ایسا نہ ہو کہ امن وامان کی ٹاپو کہے جانے والی اس ریاست میں آنے والے دنوں میں نفرت کی آندھی چلنے لگے۔ ریاستی کانگریس کمیٹی کے ترجمان منورکوثر نے کہا کہ وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کو ریاست میں جاری مذہب کے نام پر پھیلائی جارہی نفرتوں کو روکنا چاہئے۔ انہوں نے اندور کے ایک اسکول میں مذہب کے نام پربچوں کے ساتھ امتیاز برتنے کے معاملے کے بارے میں بات کی۔ علم کی مندر میں کچھ مسلم طلباءکو امتحان مراکز سے باہر بیٹھایا جانابے حد شرمناک ہے۔ اور نفرت پھیلانے کی شروعات بھی ۔ انہوں نے کہا کہ اندور میں ہوا یہ واقعہ پہلا نہیں ہے،اس سے قبل بیتول میں ایک وکیل دیپک ودروہی کے ساتھ پولس نے مارپیٹ محض اسلئے کی کہ اس کے چہرے پر داڑھی تھی ، جس سے انہیں مسلم سمجھ کر پیٹاگیا۔ اوریہ اس کی بے باکی تھی کہ اس نے معاملے کا خلاصہ کیا اور پولس کی اس گھنونی حرکت کو سب کے سامنے لایا۔ ان سب کے باوجود ایسے معاملوں پر حکومت کے ذریعہ نہ تو کوئی افسوس ظاہر کیا گیا اور نہ ہی گنہگارپولس والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔ منور نے کہا کہ ریاست کے کئی شہروں سے اس طرح کی شکایتیں آرہی ہےں کہ لاک ڈاﺅن کے شروعاتی دور میں کچھ دکان داروں کے ذریعہ مسلم سماج کے لوگوں کو ضرورت کا سامان بیچنے سے انکار کیاجارہا تھا۔ اس طرح کے معاملات کی کسیکے ذریعہ شکایت نہیں کیا جانا بتایا ہے کہ ماحول کتنا خوفناک ہوگیا ہے۔وہیں یہ دیکھنے میں آیاہے کہ راجدھانی بھوپال میں ایسے کئی معاملوں کی شکایت ہونے پر ضلع انتظامیہ نے کچھ دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جو قابل تعریف ہے۔ کانگریس ترجمان کوثر نے کہا کہ وہ جلد ہی اس طرح کی حرکتوں کے خلاف وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور وزیرداخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کو میمورنڈم دیںگے۔ انہوں نے کہ میمورنڈم دینے کے ساتھ وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ سے ایسے معاملات پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ان حالات کو جلد ہی قابو نہ کیا گیا اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو وہ ایسے تمام معاملے کو لے کر سڑک پر اترکر مخالفت کریںگے۔