لاک ڈاون میں مسلسلدوسرے جمعہ کوبھی نہیں اداہوسکی نماز جمعہ


بھوپال :3اپریل(نیانظریہ بیورو) تاریخ میں اس طرح ماحول شاید پہلی مرتبہ دیکھنے کوملاہوگا،جب لگاتاردوسرے جمعہ کوبھی کوروناوائرس کے خوف سے لاک ڈاو¿ن کے ماحول میں حکومت سمیت مذہبی رہنماو¿ں کی اپیل پرلوگوں نے نماز پڑھنے کے لئے مسجد کے بجائے گھروں میں ہی اس فریضہ کوانجام دینا مناسب سمجھاہوگا۔اس وقت دنیا بھر میں بہت سے مسلمان نماز جمعہ ادا کرنے سے محروم ہو نگے۔ اس وقت کورونا وائرس کے خطرہ کے پیش نظر بھوپال کی کسی بھی مسجد میںنماز جمعہ نہیں پڑھی گئی ہے۔کیوں کہ اس وبائی مرض سے لڑنے کے لئے تمام قوموں نے کمرکس لی ہے۔غورطلب ہے کہ امت مسلمہ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں لیکن اس کے لئے یہ نمازجمعہ اہمیت کی حامل ہے ہے۔جمعہ کے دن مساجد نمازیوں سے بھری پڑی ہوتی ہیں ، لیکن لگاتاردوسرے جمعہ کوبھی بھوپال کی مسجد خالی رہیںاور بیشتر مساجد میں تالے دکھائی دئےے۔ کچھ مساجد میں نماز پڑھی توگئی ، لیکن اس میں صرف ایک یا دو افراد نے ہی نماز پڑھی ، تاکہ کورونا وائرس کا انفیکشن اپنادائرہ نہ بڑھاپائے۔معلوم ہوکہ گزشتہ دنوں سے پورے ملک میں علماءکرام ومفتیان کرام نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ اس مرتبہ کوروناوائرس کے خطرات کے پیش نظرمصلیان مساجد میں نماز جمعہ ادانہیں کریں۔لہذا شہر قاضی نے بھی راجدھانی کے لوگوں سے خاص اپیل کی کہ وہ گھر وںمیں ہی پانچوں وقت کی نماز اداکریں۔اسی پس منظرمیںلوگوں نے شہرقاضی کی اپیل پرمکمل طورپرعمل کیااورنماز جمعہ میں نہیں پہنچے۔لوگوں کاکہنا ہے کہ جب ہمارے اکابرین نے یہ اعلان کردیاہے کہ اس وبائی مرض کوپھیلنے سے روکنا ہے تاکہ انسانیت کوخطرات لاحق نہ ہو۔اس لئے تمام مسلمانوں نے اپنے اکابرین کی اپیل پرعمل کیااورمسلسل علماءکرام کی رہنمائی میں اپنی زندگی گزاریں گے۔اب جب تک یہ وائرس مکمل طورپر پھیلنا بندنہیں ہوتا اس وقت تک لوگ اپنی نمازیں گھروں میں ہی اداکریں گے۔
کوروناکے خوف کادکھااثر، حکومت کی ہدایت پرلوگ کررہے ہیںعمل:
بتایاجاتاہے کہ کہ اس سے پہلے لوگوں نے اس طرح کاماحول پہلے کبھی نہیں دیکھا،لوگوں کاکہنا ہے کہ یہ ایک وبائی مرض ہے جوکسی کوبھی اپنی زد میں لے سکتی ہے۔راجدھانی میں موجود 75 سالہ قدیم ایشیاءکی سب سے بڑی مسجدتاج المساجد ، جامع مسجد اور موتی مسجد میں ،کے علاوہ شہرکی دیگرمساجدبھی بندنظرآئے ۔کیوں کہ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے اورکورونا کے خوف سے لوگ گھروں سے باہرنہیں کل رہے ہیں۔
جس کی وجہ سے لوگ نماز جمعہ پڑھنے مسجد نہیں آئے ۔لوگوں کاکہنا ہے کہ اس وقت ملک میں افراتفری کاماحول ہے،اس صورت میں ہمارے اکابرین نے اپیل کی ہے کہ جب تک لاک ڈاو¿ن کی صورت برقرار رہتی ہے ۔ لیکن عالمی پریشانی کے لئے اپنائی جانے والی کوششوں کے درمیان، خود علمائے کرام نے نماز کے لئے مسجد نہ آنے کا اعلان کیا ہے۔لہذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اکابرین کی صلاح پرلبیک کہیں اورموجودہ صورتحال کی پیش نظر دی گئی ہدایت پرعمل کرکے اس وباءسے خودکے ساتھ ساتھ پوری دنیااورانسانیت کومحفوظ کرنے کی کوشش کریں۔
ہمارا ملک بہت سنگین دور سے گزررہاہے ،تمام لوگ اللہ کی طرف رجوع ہوں: قاضی سیدمشتاق علی ندوی
شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے کہاہے کہ ایساوقت ہم نے بھی اس سے پہلے نہیں دیکھاکہ جس میں تمام مساجد بندہوں اورلوگ اپنے گھروں میں نمازاداکرنے پومجبورہوں،لیکن یہ ایک وبائی متعدی مرض ہے جس سے سبھی کومل کرلڑنا ہے ۔اس لئے یہ وقت صبر و تحمل کا ہے۔ اس مشکل وقت میں ، ہر انسان کو انسانیت کا خیال رکھنا چاہئے۔اس وقت ہماراملک ایک سنگین بیماری کی دور سے گزررہاہے۔موجودہ وقت میں ہم سب سے ایسی کوئی غفلت نہ ہو ، جس سے پورا خاندان اور معاشرہتکلیف کا باعث بن جائے۔ شہرقاضی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ذریعہ جاری پابندی پرمکمل طور پرعمل کریںاور اس کی بھلائی اور بہتری کو سمجھیں۔ ہر ایک کو اپنے گھروں میں ہی رہنا چاہئے اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاہئے ، دوسروں کے لئے مشکل حالات پیدا کرنے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔قاضی صاحب نے مزید کہا ہے آئندہ شب برا¿ ت بھی ہے،اس وقت بھی ہم اسی طرح صبراورضبط کامظاہرہ کریں۔کوئی بھی شخص گھرسے باہر نہ نکلے،اورنہ کوئی قبرستان جانے کی کوشش کرے۔کیوں کہ اللہ نے تعالی کوآپ کاوہی عمل پسندہے جوکسی کوتکلیف پہنچائے بغیرکیاجائے۔لہذا شب برات میں بھی لوگ اپنے گھروں میں عبادت کریں ،مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کریں اورجہاں تک ہوسکے غرباءمساکین اورضرورت مندوں کی ضرورت پوری کریں ۔اللہ تعالی یہ آپ کی تمام ضرورتوں کوپوراکرنے کے ساتھ ساتھ آخرت میں آپ کواجرعظیم بھی عطافرمائے گا۔