اپنی پہچان بنانے کی کوشش میںتنظیموں اوراداروں نے شروع کیا اعزاز کرنے کا سلسلہ

کورونا جنگجو اعزاز:

بھوپال :6جون(نیانظریہ بیورو)
کورونا کے دور میں مددگاروں نے جو جذبہ دکھایا ، وہ یقینی طور پر رہتی دنیا تک یاد کئے جانے جیسا ہی کہا جاسکتا ہے۔ غریب اور ضرورت مندوں کو راشن سے لے کر کھانا پیکٹ تک تقسیم کرنے اور ضرورت کی باقی چیزیں مہیا کرانے میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ جس سے ضرورت مندوں کو راحت بھی ملی اور حکومتوں کے سرپر بدنظمی کاٹھیکرا پھوٹنے سے بھی بچ گیا۔ اس دوران موقع پرستوں نے بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ اب اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا کچھ لوگوں نے ایک نیا طریقہ ایجاد کیا گیا ہے ، کورونا جنگجوﺅں کو اعزازیاب کرنے کا۔ اعزازی سرٹیفکیٹ وہ بھی کاغذی نہ ہوکر محض سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی پی ڈی ایف کے ذریعہ کورونا جنگجوﺅں کو اعزازیاب کرنے کی ایک رواج بن گیا ہے۔ اعزاز کرنے والوں میں بیشتر لوگ وہ ہےں ، جو خود اپنی زمین کی تلاش کررہے ہیں،اور سرٹیفکیٹ تقسیم کر خود کی ایک شناخت بنانے کی نیت رکھتے ہیں۔
کورونا کے دوران راشن سے لے کر کھانا تک ،لوگوں کو سمجھائش دیکر گھروں میں رکھنے سے لے کر سڑکوں پر آنے سے روکنے تک اور پولس ،میڈیکل ،میونسپل کارپوریشن ، ضلع انتظامیہ کی ٹیم کی مدد کرنے میں لگے لوگوں کو اعزازیاب کرنے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے فیس بک ،واٹس ایپ اور دیگر پر جاری کئے جانے والے سرٹیفکیٹ کے ذریعہ ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ شہر کے چھوٹے بڑے میڈیا گروپ،سماجی کارکنان ،تنظیمیں اور نجی طورپر سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے بہت سارے لوگ اس کام میں لگ گئے ہیں۔ حالات یہاں تک ہے کہ ایک ہی شخص کو دس دس جگہ سے ایک طرح کے سرٹیفکیٹ مل رہے ہیں۔ اعزاز کرنے والے اس بات کی فکر اور پرواہ بھی نہیں کررہے ہیںکہ جن لوگوں کو سرٹیفکیٹ دیئے جارہے ہیں، وہ کورونا کے دور میں گھر سے باہر نکل کر چوراہے تک بھی گئے ہیں یانہیں۔اور انہوں نے کسی طرح کی کوئی مدد کی ہے یا نہیں۔
مقصد خود کی پہچان بنانا:کورونا جنگجوﺅں کو سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے والوں میں زیادہ ترنہ چھپنے والا اخبار ،میگزن وغیرہ ہےں،جن کی کوئی پہچان نہیں ہے۔کچھ ایسے این جی او اور سماجی تنظیمیں، جو ضرورت کے وقت پوری طرح سے گھروں میں قید رہے ، وہ بھی اب کورونا جنگجوﺅں کی قدر کرنے کے لئے بازار میں اترے دکھائی دے رہے ہیں۔سرٹیفکیٹ کی ایک پی ڈی ایف سوشل میڈیا پر بھیجنے کے پیچھے ان کا مقصد متعلقہ لوگوں کے ذریعہ اس کی خوب تشہیر کی جارہی ہے۔ ظاہرہے کہ جب کوئی شخص اپنی اعزاز کی تعریف کرنے کے لئے سوشل میڈیا کے مختلف ڈوائسیس کی مدد لےں گے تو اس کے نام کے ساتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی تنظیم کے نام بھی ساتھ جوڑا جائے گا۔اور اس طرح اس کا نام بھی بازار میں مشہور ہوگا۔واضح رہے کہ انجانی اندیکھی اور گم نام تنظیموں اور دیگر اخبارات سے اعزاز کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے والے اس بات سے بے خبر ہیں کہ جو انہیں اعزازیاب کررہے ہےں ان کی سماج میں کیا اہمیت ہے۔ اعزاز سے نوازنے والے کی حیثیت سے ہی کسی اعزاز کا وزن طے ہوتا ہے۔ لیکن جو ادارے یا اخبارات خود ہی شناخت کی محتاج ہے، اس سے ملے کسی اعزاز سے کسی مقبول شخص یا ادارے کو کیا فائدہ مل سکتا ہے۔ یہ سوال قابل غور ہوسکتا ہے۔ لیکن سرٹیفکیٹ کے لئے منتخب کئے گئے نام کو اپنے سرآنکھوں پر رکھنے والے اس بات سے انجان ہیں کہ ان کے اعزاز کے نام پر کوئی خود کی ہی اپنی اہمیت بڑھانے میں لگاہے۔