اجتماعی جمعہ کی نماز سے محروم امت مسلمہ نے جلدکوروناختم ہونے کی کی دعائ

لاک ڈاون کا11واں جمعہ:
اجتماعی جمعہ کی نماز سے محروم امت مسلمہ نے جلدکوروناختم ہونے کی کی دعائ
بھوپال:5جون(نیانظریہ بیورو)
لاک ڈاﺅن کی پابندیوں نے عبادت گاہوں میںاپنے رب کویاد کرنے پر بھی پہرے بٹھارکھے ہیں۔ حالات عام ہونے تک لوگ 11واںجمعہ کی نماز گھروں میںادا کرچکے ہیں۔ اس جمعہ کو سجدے میں جھکے لوگوںنے اللہ سے یہی دعا کی کہ سب کچھ پہلے سے بھی بہتر ہوجائے اور مسجدوں میں ویرانی کے حالات دوبارہ کبھی نہ بنےں۔لاک ڈاﺅن شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ 27مارچ کے جمعہ کی نماز کے لئے اعلان کیا گیا تھا کہ یہ نماز اب گھروں سے ہی ادا کی جائے گی۔ شہر کی سب بڑی مسجد تاج المساجد سے کئے گئے اعلان کے دوران تاکید کی گئی تھی کہ اگلے اعلان تک کوئی بھی نماز اجتماعی طور پر ادا نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد اپریل کے مہینے کے چار اور مئی کے پانچ جمعہ گھروں میں ادا کئے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ جون کے پہلے جمعہ آتے آتے لوگوں کو اس بات کی راحت نصیب ہوگئی کہ ممکن ہے کہ آنے والے جمعہ کو وہ اجتماعی طورپر نمازادا کرپائیںگے۔
ابھی رکھنے ہونگے بہت زیادہ احتیاط:8جون سے کھلنے والے دروازے مذہبی مقامات کے ساتھ مسجدوں میں بھی اجتماعی طور پر نماز کی اجازت ملنے کی امید کی جارہی ہے۔ اس کے لئے کی گئی تیاریوں کے درمیان اب مسجدوں میں بچھنے والی جائے نماز ہٹائی جائے گی۔ لوگوں کو فرش پر یا گھر سے ساتھ لائے کپڑے پر نماز اداکرنی ہوگی۔ وضوخانے اور حوض بند رہنے کی وجہ سے نمازیوں کو وضو گھر سے کرکے آنا پڑے گا۔ سوشل ڈسٹینس کی پابندی کرتے ہوئے نماز میں بننے والی صف کا نظم نہیں ہوسکے گا۔ یہ بھی طے کیاجارہا ہے کہ اب شہر کی چھوٹی مسجدوں میں بھی جمعہ کی نماز ہوگی ، جس سے زیادہ لوگوں کو نماز کے لئے جگہ مل سکے۔وہیں لمبے عرصے سے گھروں میں نماز ادا کررہے لوگوں نے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد خصوصی دعائیں کیں۔ انہوں نے اس بات کے لئے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اب حالات بہتری کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔ ساتھ ہی گذارش کی کہ زندگی میں کبھی ایسے حالات نہ بنیں کہ لوگوں کو عبادت گاہوں سے دور رہنا پڑے۔
لاک ڈاو¿ن کے دوران عقیدت پر ایک نظر:
٭ 11جمعہ کی نماز ادا کرنی پڑی گھروں میں۔
٭شب برا¿ت پر قبرستان اور مسجد میں عبادت نہیں کر پائے عقیدت مند۔
٭ ماہ رمضان کی خاص نماز تراویح اجتماعی طور پر نہیں پڑھی جاسکی۔
٭روزہ افطار کے اجتماعی پروگرام کا انعقاد نہیں کئے جاسکے۔
٭ عید کی نماز لوگوں کو عید گاہ کے بجائے گھروں میں ادا کرنی پڑی۔
٭روزانہ کی پنج وقتہ نمازیں گھروں میں ادا ہورہی ہے۔
قاضی سید انس علی ندوی کا کہنا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ نماز کے لئے مسجدوں کو کھولا جارہا ہے۔ اب لوگوں کو بدلے حالات کے مدنظر ضروری احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔وہیں مفتی عطاءالرحمان نے کہا کہ مسجدیں سماج میں رابطے کا ایک بڑا مرکز ہےں۔ لوگوں کو عبادت کے لئے مسجدوں میں جانا چاہئے اور اللہ سے ان تمام گناہوں کی معافی مانگی چاہئے، جن کی وجہ سے مسجد میں داخل ہونے سے منع کردیئے گئے تھے۔ حکومت اور انتظامیہ کے طے کئے گئے قوانین وضوابط کی پابندی کرتے ہوئے عبادت کریں، اسی میں سب کی بھلائی ہے۔