وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کووڈ-19 فلاحی اسکیم میں شامل کریں

معاہدہ صحت ملازمین کامطالبہ:

بھوپال:5جون(نیانظریہ بیورو)
جہاں پورے ملک میں ڈاکٹروں اور صحت ملازمین کو کورونا وارئیرس کی حیثیت سے اعزاز بخشا جارہا ہے ، وہیں ان کے کام کوبھی سراہا جارہا ہے۔ دوسری طرف بھوپال سمیت پورے مدھیہ پردیش کے معاہدہ صحت ملازمین کو یہ شکایت ہے کہ ان کے کام کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور ان کے مطالبات پورے نہیں کئے جار ہے ہیں۔ جس کے خلاف ریاست بھر میں معاہدہ صحت ملازمین نے بروزجمعہ یوم سیاہ منایا۔
معاہدہ صحت ملازمین نے منایا یوم سیاہ:
مدھیہ پردیش کنٹریکٹ ہیلتھ ایمپلائز یونین کے ریاستی صدر سوربھ سنگھ چوہان نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے تقریباً 19 ہزار کنٹریکٹ ہیلتھ ورکر کووڈ 19 کے فرائض میں مصروف ہیں ، لیکن ہم سب کنٹریکٹ ہیلتھ ورکرز ہیں اس کے لئے افسوسناک امر یہ ہے کہ ریاست میں 5 جون ، 2018 کو ریاست میں جاری عام انتظامیہ کی کنٹریکٹ پالیسی کے دو سال گزر جانے کے بعد بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔ نیز ، 90 فیصد کو تنخواہ پیمانہ نہیں دیا گیا ہے۔ نہ ہی باقاعدہ ملازمین کی طرح کوئی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس وبائی دور میں اس طرح کا امتیاز تمام معاہدہ ملازمین کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہے۔
ریاستی صدر سوربھ سنگھ چوہان نے کہا کہ اس کے علاوہ کنٹریکٹیوٹیکل ہیلتھ ورکرز کووزیراعلیٰ کووڈ 19 فلاحی اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ تمام صحت ملازمین اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس وقت اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ، وہ اپنے کنبے کے بارے میں بھی فکرمند ہےں۔ اگر وہ اس دوران انفیکشن میں آجائیں تو ، ان خاندانوں کا کیا ہوگا جوان پرہی انحصار کرتے ہیں۔ کنٹریکٹ ہیلتھ ورکرز نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت ہمیں تنخواہ الاو¿نس سمیت باقاعدہ ملازمین کی طرح سہولیات دے۔ اس کے علاوہ ، تمام قابل معاہدہ ملازمین کو باقاعدہ ملازمت دے۔
اس احتجاج میں ، تمام معاہدہ ڈاکٹر ، نرسیں ، فارماسسٹ ، لیب ٹیکنیشن اور مینجمنٹ یونٹ ، آپریٹرز ، آیوش ، ٹی بی پروجیکٹ کے تمام ملازمین احتجاج میں شامل ہیں اور اپنے کام کی جگہ پر سیاہ ماسک ، سیاہ پٹی اور کالاچشمہ پہنچ کر اپنا احتجاج درج کرائے ہیں۔