“ٹڈی دل اللہ کاقہر یا اللہ کالشکر”

 

 

از۔محمدقمرانجم قادری فیضی

ملک ہندوستان ابھی کوروناوائرس کی پریشانی سے اُبر بھی نہیں پایا،اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہندوستان کی عوام بےحال وپریشان نظر آرہی ہے،
اسی اثناء میں ٹڈی دلوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیاہے،ہندوستان کے بہت سارے ضلعوں میں الرٹ جاری کردیاگیاہے، خبروں کی بنیادپر ٹڈی دل 25 سال کا ريکارڈ توڑ حملہ کردیئےہيں،اقوام متحدہ کی ايگريکلچر ايجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ہندوستان میں ٹڈی دل 25 سال کا ريکارڈ توڑ حملہ کرنے والے ہيں،ہندوستان میں راجستھان اور ہریانہ شديد متاثر ہوئے ہيں اور فصليں برباد ہوئی ہيں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹڈی دل کے حملے سے کرونا کا بحران شدت اختيار کرسکتا ہے۔مگر اسی بیچ
جب ہندوستان کے بہت سارے جگہوں پر ٹڈی دل کا حملہ شروع ہوگیا ہے تو کچھ متعصبانہ قسم کے لوگ اور بھارت کا گودی میڈیا اسے پاکستانی حملہ قرار دے رہا ہے،ایسے لگتاہے کہ جیسے اگر ہندوستان میں کچھ بھی اور کوئی بھی بَلا مصیبت،آفت آتی ہے تو سب سے پہلے شک کی سوئی پاکستان کی طرف موڑ دی جاتی ہےیا مسلمانوں کی طرف موڑ دی جاتی ہے اور میڈیارپورٹننگ کے ذریعے ایسا محسوس کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگر ہندوستان میں ٹڈی دل بھی آیاتو مسلمانوں کی وجہ سے، افسوس صد افسوس، کورونامعاملات میں بھی گودی میڈیا یہی کہہ رہی تھی، اور اب ٹڈی دل والے معاملے میں بھی انکا یہی رویہ ہے، مگر ان بے وقوفوں کو کون سمجھائے کہ یہ پاکستان کی طرف سے حملہ اور سازش نہیں ہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی جانب سے عذاب ہے جو اس سے پہلے بھی آ چکا ہے، اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ان کے اس دوٹوک انکار کے بعد ہم نے (پانچ مختلف شکلوں کے عذاب) (1) طوفان (2) ٹڈیاں (3) جوئیں (4) مینڈک اور (5) خون اپنی قدرت کی کھلی نشانیوں کے طور پر مسلط کر دیا۔ مگر پھر بھی وہ اپنے تکبر پر قائم رہے اور وہ مجرم قوم ہی بنے رہے۔ لیکن جب ان پر عذاب واقع ہو گیا تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے رب سے وہ دعا کریں جس کا آپ کے رب نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر آپ یہ عذاب ہم سے ہٹوا دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کی قوم بنی اسرائیل کو آزادی بھی دے دیں گے۔ لیکن جب ہم نے ان سے ایک مقررہ وقت تک کے لیے عذاب ہٹا دیا تو وہ اپنے وعدہ سے پھر گئے اور عہد توڑ دیا۔ پھر ہم نے ان سے اس کا انتقام لیا اور انہیں سمندر کی موجوں میں غرق کر کے ان لوگوں کو زمین کا وارث بنا دیا جو اس سے پہلے کمزور سمجھے جاتے تھے اور غلام بنا لیے گئے تھے۔ اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان کے صبر کا بہتر صلہ دیا اور فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بھی تیاریاں کر رکھی تھیں سب کو غارت کر دیا۔

ٹڈی اللہ تعالیٰ کا لشکر ہے تو ضرور کسی نہ کسی حکمت کے تحت ہی یہ آئے ہیں اور اول حکمت یہی ہے کل جب جب اللہ تعالیٰ کے نیک بندے یعنی مسلمانوں پر ناجائر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جائیں گے، تب تب تو اللہ تعالیٰ انکی مدد کے لئے اپنی فوج بھیجتا رہےگا، کمزور ہم ہیں ہمارا رب نہیں، مجبور ہم ہیں ہمارا رب نہیں یہ تو ہمارے اعمال خراب ہیں ورنہ فیصلہ تو چند منٹوں میں ہوجاتا کہ ادھر یاتھ دعاکے لئے اٹھتا اور اُدجر فیصلہ ہوجاتا، مگر افسوس صدافسوس، کہ ہم نے اپنی قابلیت کھودی اور ہم بھول گئے کہ ہم وہی مسلمان ہیں ہاں وہی مسلمان جو 72 ہوکر بھی 10000 کے لشکر جرار سے لوہالیتے تھے جو 313 ہوکر بھی ہزاروں کافروں سے بھڑ گئے، ہمارے نعروں سے بڑا سے بڑا قلعہ بھی دہل جاتااور جس طرف رخ کردیتے تھے، صحراء دریا جنگل پہاڑ سب ہمارے قدموں میں گرتاہوا نظر آتاتھا انسان کی کیا بات ،
تمام مخلوق مسلمانوں کی عظمت وشان پر دادوتحسین دیتی تھی،
دشت تو دشت ہے دریابھی نہ چھوڑے ہم نے، بحرظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑےہم نے،

ٹڈی کوعربی میں الجراد اور انگلش میں لوکاسٹ کہتے ہیں اسکی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک تو دریائی اور دوسری صحرائی، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایاہے۔
نیچی آنکھیں کئے ہوئے قبروں سے نکلیں گے، گویا وہ ٹڈی ہیں پھیلی ہوئی یعنی قیامت کے دن جب انسان اپنی اپنی قبروں سے باہر آئیں گے اور زمین پر پھیلیں گے تو یوں لگےگا جیسے کہ ٹڈیوں کا لشکرہو(پارہ 27 سورہ قمر، آیت 7)
ٹڈی دل اللہ تعالیٰ کا لشکر ہیں اور انکے سینوں پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے ،نحن زنداللہ الاعظم،یعنی ہم اللہ کے عظیم لشکر ہیں، ایک مرتبہ ایک ٹڈی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ ہم جو انڈا دیتے ہیں وہ پورے 99 ہوتے ہیں اگر 100 ہوجائیں تو پوری دنیاکو کھاجائیں گے ۔حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ سے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لشکرہیں. لہذا انہیں قتل نہ کرو مطلب انہی یوں ہی نہ مارو ہاں اگر نقصان پہنچائیں تو مارسکتے ہیں،
حضرت سید نام مو لا ئے کائنات علی مرتضی رضی المولی عنہ سے مروی ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کوآزمائش میں مبتلا کرنا چاہتاہے تو ٹڈیوں کو بھیج دیتا ہے، ایک مرتبہ حضرت سیدنا امیرالمؤمنین عمرفاروق اعظم رضی المولی عنہ کے زمانے میں ٹڈیاں غائب ہوگئیں، توآپ بہت غمگین ہوگئے اور انکی تلاش شروع کردی ،انیں تلاش بسیار کے بعد ڈھونڈ نکالاگیاتو آپ کو سکون ملا۔ صحابہ کرام نےماجرا پوچھا توآپ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے 1000 مخلوقات کو پیدا فرمایاہے جن میں سے 600 دریا میں 400 خشکی میں آباد فرمایا، مگر جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو فنا کرنا چاہےگاتو سب سے پہلے ٹڈیوں کو فناکرےگا پھر باقی مخلوق کو، اس لئے انکے نہ ملنے پر میں غمگین ہواکہ کہیں ان پر فنا کا حکم تو نہیں آگیا،

ٹڈیاں جب انڈا دینے کا ارادہ کرتی ہیں تو سخت اور بنجر زمین تلاش کرتی ہیں کہ جہاں انسان کا گذر نہ ہو پھر زمین میں سوراخ کرکے انڈے دیتی ہیں، اور انڈے وہیں پڑے پڑے زمین کی گرمی سے ہی بچے نکال دیتی ہے،
ٹڈی کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں، 2 آگے 2بیچ میں اور2 پیچھےکی طرف، اسکے اعضاء میں 10 جانوروں کی شکل پائی جاتی ہے اسکا چہرہ گھوڑےکا، آنکھ ہاتھی کی، گردن بیل کی، سینگ بارہ سنگھا کا،سینہ شیر کا پیٹ بچھو کا، گِدّھ کےپَر، اونٹ کی ران، شترمرغ کی ٹانگ، اور سانپ کادُم، یہ ہمیشہ لشکر کی طرح پرواز کرتےہیں، انکے آگے انکا سردار ہوتاہے اگر وہ اڑتارہتاہے تو سب اڑتے ہیں اگر وہ بیٹھ جاتاہے تو اتر جاتے ہیں انکا لعاب یعنی تھوک ہریالی کے لئے زہر ہوتاہے ان کا جھنڈ کسی کھیت یا کھلیان میں اتر گیاتو سمجھو وہ پورا برباد ہوگیا یہ پاک اور ہلال بھی ہیں،
اسکے فوائد میں سے ہے کہ اگر کسی کو رک رک کر پیشاب آتاہوتو ٹڈی مار کر اسکی دھونی دینے سے یہ میں ٹھیک ہوجائےگا، اسی طرح اگر کسی کو استسقاء کا مرض ہوتو ٹڈی کا سر اور پاؤں لیکر اسمجں درخت ریحان کی چھال ملاکر پینے سے اس مرض سے چھٹکارا مل جائےگا،ٹڈی دل دیکھ کرعام طورپراکتاہٹ اورخوف کا اظہارکیا جاتا ہے، لیکن شاید زیادہ لوگوں کوعلم نہیں ہے کہ سعودی عرب میں ٹڈیاں لوگوں کی مرغوب غذا ہیں۔گزشتہ دنوں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ٹڈیوں کے حملے سے جہاں نقصان ہوا وہیں مقامی لوگوں کو اتنی بڑی تعداد میں ٹڈیاں دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور خاص طور پرٹڈیاں فروخت کرنے والوں کی چاندی ہوگئی۔
1: یاد رہے کہ دن 10 بجے سے لے کر دن 3 بجے تک جھنڈ کی چوڑائ کم ہوتی ہے اور لمبائ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ دن 3 بجے کے بعد جھنڈ کی چوڑائ زیادہ ہو جاتی ہے اور لمبائ کم ہو جاتی ہے۔
جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو یہ ویرانے کی طرف یعنی آبادی سے دور چلی جاتی ہے۔
2: درختوں، جھاڑیوں اور پودوں پر بیٹھتی ہے اور ساری رات ان کے پتے کھاتی ہے۔ جب پیٹ بھر جاتا ہے تو بھی پتوں کو کاٹ کاٹ کر نیچے گراتی رہتی ہے۔
جب سورج کی روشنی اس پر پڑتی ہے تو یہ دھوپ سینکنے کیلئے درختوں اور پودوں سے نیچے اتر آتی ہے اور جو بھی فصل وہاں پر موجود ہو اسے تہس نہس کر دیتی ہے۔
3: جب سورج کی روشنی تیز ہو جاتی ہے تو یہ اڑ جاتی ہے اور اپنا سفر پھر سے شروع کر دیتی ہے۔
یاد رہے کہ جب تک سورج کی روشنی اس پر نہیں پڑے گی یہ اپنی جگہ سے نہیں ہلے گی۔ چاہے 7 دن بادل رہیں یہ اپنی جگہ پر بیٹھی رہے گی۔
4: * اگر دن کے وقت کسی علاقے میں بیٹھ جائے تو اسے اپنی فصلات سے دور رکھنے کیلئے بہت ذیادہ شور پیدا کریں۔ ڈھول، ٹین کا بجانا کافی موثر ثابت ہوتا ہے۔
اپنی فصل کے قریب دھواں پیدا کرنے سے بھی ٹڈی دل اڑ جاتی ہے
مضمون نگار۔سدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگرکے ریسرچ اسکالر ہیں،
رابطہ۔6393021704