پرائیویٹ اسپتالوں میں 20 فیصد کورونا بیڈ لازمی: سسودیا

دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسودیا نے پرائیویٹ اسپتالوں میں 20فیصد بیڈ کورونا مریضوں کے لئے ریزور کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ دیگر بیماریوں کے مریضوں کو اگر کورونا ہو تو کوئی اسپتال ان کے علاج سے انکار نہ کرے۔
سسودیا نے کہا کہ جن اسپتالوں کو 20 فیصد بیڈ کورونا کے لئے محفوظ کرنے میں کوئی لاجسٹک دقت ہوگی، انہیں کورونا ڈیڈیکیٹ اسپتال اعلان کردیا جائے گا۔ اس کے لئے اسپتالوں کو جمعہ یعنی آج تک کا وقت دیا گیا ہے۔
نائب وزیراعلی اور وزیر صحت ستیندر جین نے جمعرات کو مشترکہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔ مسٹر سسودیا نے کہا کہ ہمیں کسی ڈیٹا میں نہیں الجھنا ہے۔ ہمارا کسی ریاست سے مقابلہ نہیں ہے۔ وزیراعلی اروند کیجریوال کا واضح کہنا ہے کہ سب کی جان بچانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ کورونا کے معاملے بڑھ رہے ہیں۔ اس لئے کورونا کے لئے وقف اسپتالوں کی تعداد بڑھائی جارہی ہے۔ پانچ سرکاری اور تین پرائیویٹ اسپتالوں کو کورونا کے لئے وقف اسپتال بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 61 اہم پرائیویٹ اسپتالوں کو 20 فیصد بیڈ کورونا کے لئے محفوظ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایسے اسپتال اب دیگر مرض والے کورونا مریضوں کے علاج سے انکار نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے اسپتالوں نے اسے تسلیم کرلیا ہے۔ کچھ اسپتالوں نے مکس سسٹم میں معذوری ظاہر کی ہے۔ ایسے اسپتالوں کو جمعہ تک کا وقت دیا گیا ہے۔ جن اسپتالوں کو مکس سسٹم میں پریشانی ہوگی، انہیں کورونا کے لئے ریزرو اسپتال اعلان کردیا جائے گا۔ مسٹر سسودیا نے کہا کہ مول چند، گنگا رام اور سروج اسپتال کو کورونا ڈیڈیکیٹ اسپتال بنایا گیا ہے۔
سسودیا کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت کورونا وبا کے دہلی میں پھیلاؤ کو لے کر پریشان ہے اور اب علاج کے ہر ممکن انتظام پر غور کر رہی ہے۔ حکومت کے پاس جو اعداد و شمار ہیں اسی کے بعد سے حکومت نے بینکویٹ ہال اور انڈور اسٹیڈئم لینے کی بات کہی ہے۔