مسلمانان ہند کےلئے غم کا سال!کیا عبادت ،کیا تہوار:مولاناقاسم رحمانی

مسلمانان ہند کےلئے غم کا سال!کیا عبادت ،کیا تہوار:مولاناقاسم رحمانی
بھوپال:4جون(پریس ریلیز)
مدرسہ جامعہ محمد یہ جنتانگر بھوپال کے ناظم مولانا محمد قاسم رحمانی اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ آج پوری دنیا ایک انقلابی دور سے گذررہی ہے حالات برابر نیا رنگ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ساری قومیں مل کر آئندہ کا نقشہ بنا رہی ہےں۔ اس ترقی پر دنیا میں جہاں ملکوں کا پرانا نظام بدل رہا ہے وہیں مسلمانوں کی دینی اور ملی اور مذہبی خصوصیات کو مٹانے کی کوشش جاری ہےں۔ نیز ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں بھی یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ یہاں کی فرقہ پرست جماعتیں اور تنظیمیں اس کے لئے پوری طاقتیں صرف کررہی ہےںکہ مسلمانوں کو کسی طرح زک پہنچائی جائے۔ کبھی ان کے شعائر دین کو نشانہ بناتی تو کبھی فرقہ وارانہ فسادات کراکر مسلمانوں کی عزت وآبرو جان ومال کو تباہ کررہی ہے۔ رحمانی نے 2019اور2020کو غم کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے مسلمانوں حکومتِ ہند نے اپنی طاقت کے دم پر نہایت عجلت میں طلاق ثلاثہ کا قانون منظور کرلیا ، اس کے چند دنوں کے بعد ہی جموں وکشمیر کے دفعہ 370کو منسوخ کردیا اور دیگر صوبے کے دفعہ 371کو باقی رکھا۔ اسی طرح عدالت کے سہارے بابری مسجد کے فیصلے کو دیکھا جاسکتا ہے کہ پانچ سو سالہ پرانی مسجد مندر میں تبدیل کرلی گئی ۔ یہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تکلیف دہ ہے۔ ابھی یہ سب غم دور بھی نہ ہوپائے تھے کہ این آرسی اور این پی آر کے ذریعہ مسلمانوں کو بے وطن کرنے کی سازش چل رہی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی مرکزی حکومت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اکثریتی فرقہ کے قومی دھارے میں ضم ہوکر اپنی شناخت کھو بیٹھیں ، اگر اس دور ردوبدل میں مسلمانوں نے ملکی بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگ بڑی طاقتوں کی بدلتی ہوئی حکمت عملی اور بیمار ذہنیت کی سازشوں سے کوئی سبق حاصل نہ کیا تو انہیں مستقبل میں بڑے نا مساعہ حالات اور مشکلات سے گذرنا بیدار قوم کی حیثیت سے سوچیں اپنی صفوں فرقوں اور علاقائی حد بندیوں کو توڑ کر ایک متحد قوم کی حیثیت سے دنیاں کے سامنے آئیں اور اپنے دین ومذہب کی بقاءاور تحفظ جان ومال کے لئے اپنا مدعہ اقوام عالم کے سامنے رکھیں۔