مددکرنے والی تنظیموں کادائرہ ہوامحدود،ضرورتمندوں کی پریشانیوں میں اضافہ

ان لاک ڈاو¿ن کی مشکلات:

بھوپال:4جون(نیانظریہ بیورو)
تقریباً 70دنوں کے لاک ڈاﺅن میں ضروت مندوں کی خیریت پوچھنے مددگاروں کا ہجوم شہر سمیت پوری ریاست اور پورے ملک میں دکھائی دئےے۔ لیکن لاک ڈاﺅن سے ان لاک کے حالات بنتے ہی عام عوام کی مشکلیں پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہیں، جبکہ مدد کرنے والوں نے اپنے دامن سمیٹنا شروع کردئے ہیں۔ نتیجہ عوام کی بڑھتی پریشانیوں کی شکل میں نظرآ نے لگی ہے۔گزشتہ دوماہ سے لاک ڈاﺅن کے دوران شہر میں درجنوں تنظیمیں اور ذاتی طور پر لوگ مددکے لئے سامنے آئے تھے۔ اس دوران ضرورت مندوں تک کھانا پیکٹ سے لے کر راشن کٹ تک آسانی سے پہنچتے رہے۔ اس دوران بیرونی مزدوروں کو بھی ہر طرح کی مدد پہنچائی گئی۔ حکومت کی جانب سے بھی آگے بڑھ کر نجی طور پر کی گئی ان کوششوں نے مشکل حالات میں بھی لوگوں کو سکون کے لمحات مہیا ہوتے رہے ہیں۔ لیکن لاک ڈاﺅن سے ان لاک میںحالات تبدیل ہونے کے ساتھ ہی اچانک مددگاروں کے قدم پیچھے ہٹتے دکھائی دیئے۔ جس کا اثر ضرورت مندوں کی بڑھتے مشکلات کی شکل میں سامنے آنے لگاہے۔
ان لاک ہوا ہے، آمد شروع نہیں:کاروباری، مزدوریا یومیہ اجرت پر کام کراپنی زندگی بسر کرنے والوں کی مشکلات محض اتنی ہوئی ہے کہ بازار کھل گئے ہیں۔ لیکن تذبذب کے ماحول میں فی الحال خریداروں کے قدم دکانوں کی جانب بڑھنے کے حالات کم دکھائی دے رہا ہے۔ روز کماکر چولہا جلانے کا انتظام کرنے والے لوگوں کو بھی فی الحال راحت نہیں ملی ہے۔ لاک ڈاﺅن کے حالات میں کم خرچ پر زندگی بسر کررہے لوگوں کو بھی مزید خرچ کی مار پڑنے لگی ہے۔ سب کچھ بند ہونے کی وجہ سے قرض یا مدد کے لئے آگے رہنے والے لوگوں نے بھی قدم کھینچنا شروع کردئے ہیں۔ جس سے متوسط طبقات کی پریشانیاں بڑھتی دکھائی دینے لگی ہےں۔
مددگاروں کے سمٹتے دائرے:”پہل “تنظیم کے سید فیض علی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاﺅن کے دور میں پورے دو مہینے تک لوگوں تک کھانا ، راشن کٹ ، عید کٹ ، دوائیاں ، ضرورت کی دیگر چیزیں پہنچائی گئی۔لیکن اب مددگاروں کی طرف سے بھی ہاتھ کھینچنا شروع ہوگیا۔ کام کاج شروع ہونے سے مدد میں لگی ٹیمیں بھی بکھرنے لگی ہے۔ اس لحاظ سے مدد کے کام میں کمی آئی ہے۔ اے پی جے عبدالکلام تنظیم کے جاوید بیگ کہتے ہیں کہ لاک ڈاﺅن کے دوران گاندھی نگر اور آس پاس کے علاقوں میں کھانا پیکٹ تقسیم کیا گیا ۔ لیکن اب یہ سینٹر بند کرنا پڑے ہیں۔ اقبال میدان ستیہ گرہ سے جڑے شاہ ویزسکندر بتاتے ہیں کہ تقریباً 85کچن سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو کھانا تقسیم کیا گیا ۔ اب یہ انتظام سمٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب نصف سے بھی کم تعداد میں کچن خدمات دے رہے ہیں۔ جس سے ضرورت مندوں کی مشکلیں بڑھنا لازمی ہے۔ عارف مسعود فینس کلب کے عبد النفیس کا کہنا ہے کہ لاک ڈاﺅن کے پہلے ہی دن سے نئے اور پرانے شہر میں تقریبا14سنیٹروں سے لوگوں تک کھانے کے پیکٹ پہنچائے جارہے تھے۔ جس سے تقریباً 30ہزار لوگوں کو روزانہ کھانا مل رہاتھا۔ بدلتے حالات کے ساتھ اب یہ انتظام کم ہوتے جارہے ہیں۔
باکس:
لاک کھلا ہے،قسمت نہیں:پہل تنظیم کے سید فیض علی کہتے ہیں کہ مشکل وقت میں شہر کی دریا دل لوگوں نے خوب مدد کی ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت کو کسی بڑی بغاوت یا ہاہاکار سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔ فیض نے کہا کہ اب لاک ڈاﺅن ختم ہوگیا ہے تو حکومت کو اپنی ذمہ داری اٹھانی چاہئے۔ کام کاج کے حالت صحیح ہوجانا چاہئے، تاکہ سبھی کے لئے آسانیاں پیدا ہوسکے۔