ملک کی تین ریاستوں اور دہلی میں 65.60 فیصد کورونا وائرس کے مریض

نئی دہلی: مہاراشٹر، تمل ناڈو، دہلی اور گجرات میں کورونا وائرس سے اب تک 142297 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جو ملک میں اب تک اس وبا کی زد میں آئے مجموعی متاثرین کا 65.60 فیصد ہے۔ مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا وائرس کے 9304 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 216919 تک پہنچ گئی ہے۔ ملک میں اس وبا سے مجموعی طور پر 6075 افراد کی موت ہوئی ہے اور 104107 لوگ صحت مند ہوئے ہیں۔

راہل گاندھی نے کی راجیو بجاج سے ویڈیو کانفرسنگ کے ذریعہ گفتگو
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ملک کے معروف صنعت کار راجیو بجاج سے ویڈیو کانفرسنگ کے ذریعہ کورونا اور لاک ڈاؤن پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ راہل گاندھی نے راجیو بجاج سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ لاک ڈاؤن کا معیشت پر کیا اثر پڑا ہے اور اب آگے کا کیا راستہ ہے۔ پیش خدمت ہے اس تبادلہ خیال کے اہم اقتباسات:
راہل گاندھی: کورونا وائرس کے دوران آپ کے یہاں کیا حالات ہیں؟
راجیو بجاج: سبھی کے لئے یہ نیا ماحول ہے، ہم سب اس میں ڈھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو لوگ اسے برداشت کر سکتے ہیں وہ کوشش کر رہے ہیں لیکن اس درمیان کاروبار کے ساتھ کافی کچھ ہو رہا ہے۔
راہل گاندی: کسی نے سوچا نہیں ہوگا کہ دنیا اس طرح لاک ہوجائے گی عاملی جنگ کے دوران بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔
راجیو بجاج: جاپان، سنگاپور ہمارے دوست ہیں اس کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک سے بات ہوئی ہے۔ ہندوستان میں ایک طرح سے بہت خوفناک قسم کا لاک ڈاؤن ہوا ہے ایسا لاک ڈاؤن کہیں پر بھی نہیں ہوا۔ دنیا کے کئی ممالک میں باہر نکلنے کی اجازت تھی لیکن ہمارے یہاں حالات الگ رہے۔

راہل گاندھی: ہندوستان میں ایک طبقہ ہے جو اس لاک ڈاؤن کو برداشت کر سکتا تھا لیکن کروڑوں مزدوروں کو مشکل جھیلنی پڑی۔
راجیو بجاج: ہندوستان نے مشرق کی طرف نہیں بلکہ مغرب کی جانب دیکھا، حالانکہ مشرقی ممالک میں اس کے خلاف بہتر کام ہوا ہے۔ مشرقی ممالک میں ٹیمپریچر اور طبی سہولیات سمیت کئی طرح کی دشواریاں تھیں لیکن اس کے باوجود اچھا کام ہوا ہے۔ ایسی کوئی بھی طبی خدمات نہیں ہے جو اس سے نمٹ سکے۔ ہم نے لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں اس طرح بتایا کہ اگر یہ بیماری ہوگئی تو جیسے موت واقع ہوگئی۔یعنی کینسر سے بھی زیادہ سخت بیماری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کی سوچ بدلی جائے اور ان میں اعتماد پیدا کیا جائے تاکہ زندگی کو واپس پٹری پر لایا جا سکے، ظاہر ہے اس میں ایک لمبا وقت لگے گا۔

مجھے سے کہا گیا تھا کہ میں راہل گاندھی سے بات نہ کروں، راجیو بجاج
راہل گاندھی کے ایک سوال کے جواب میں صنعت کار راجیو بجاج نے کہا کہ ان کو کسی نے مشورہ دیاتھا کہ وہ راہل گاندھی سے بات نہ کریں کیونکہ اس کا انہیں نقصان ہو سکتا ہے۔ راجیو بجاج نے مانا کہ ماحول میں تبدیلی آئی ہے اور بیکلیش یعنی بدلہ کا خوف لوگ بتاتے ہیں۔

لاک ڈاؤن سے تباہ ہو گئی ہے ہندوستانی معیشت، صنعت کار راجیو بجاج
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے صنعت کار راجیو بجاج سے کورون وبا کی وجہ سے معیشت پر پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ راجیو بجاج نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کاروبار کے لئے ابھی ماحول سازگار نہیں ہے اور لوگوں کے ذہن میں خوف ہے جس کی وجہ سے ابھی سپلائی چین کی بحالی ممکن نہیں ہے۔

میکسیکو میں کووڈ۔19 سے ایک دن میں ریکارڈ 1092 افراد ہلاک
میکسیکو سٹی: لاطینی امریکی ملک میکسیکو میں ایک دن میں کورونا وائرس (کووڈ -19) سے ریکارڈ 1092 لوگوں کی موت ہونے کے ساتھ ہی ملک میں اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 11 ہزار کے اعداد و شمار کو پار کر گئی ہے۔ میکسیکو میں کووڈ۔19 سے اب تک 11729 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ میکسیکو کی وزارت صحت میں وبا بیماری محکمہ کے ڈائریکٹر جوس لوئیس الومیا نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔

میکسیکو میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کے 3912 نئے معاملے سامنے آئے ہیں جس سے کل متاثرین کی تعداد بڑھ کر 101238 ہو گئی ہے۔ اس سے ایک دن پہلے میکسیکو میں کورونا انفیکشن کے 3891 نئے معاملے سامنے آئے تھے جبکہ 470 لوگوں کی اس وبا سے موت ہوئی تھی۔ غور طلب ہے کہ برازیل کے بعد میکسیکو کورونا کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں کورونا کے 571 نئے معاملے
دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس (کووڈ -19) انفیکشن کے 571 نئے معاملے سامنے آنے کےبعد ملک میں کل متاثرین کی تعداد بڑھ کر 36359 ہو گئی ہے۔ یو اے ای کی صحت اور بیماریوںکے کنٹرول کی وزارت نے بدھ کو ایک بیان جاری کرکے کہا کہ نئے معاملات بیرون ملک سےآئے لوگوں کے ہیں اور ان سب کی حالت مستحکم ہے اور ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ اس درمیان،کورونا سے متاثر 427 مریضوں کو بالکل ٹھیک ہونے کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ وزارتکے مطابق ملک میں اب تک 19153 لوگ مکمل طور انفیکشن سے ٹھیک ہو چکے ہیں۔ اس دوران کووڈ-19 سے ایک شخص کی موت ہونے سے ملک میں اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 270 تک پہنچ گئیہے۔ یو اے ای خلیج کا پہلا ایسا بے ملک ہے جہاں کورونا کے پہلے معاملے سامنے آئے تھے۔

یوکرائن میں کورونا کے 483 نئے معاملے، کل 24823 متاثرین
کیف: دنیا کے دیگر ممالک کی طرح یوکرائن میں بھی عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ -19) کا قہربڑھتا جا رہا ہے۔ یوکرائن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کے 483 نئے معاملے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 24 ہزار کے اعداد و شمار کو پار کر کے 24823 ہو گئی ہے۔ یوکرائن کے وزیر صحت میکسم استیپانوف نے بدھ کو یومیہ پریس بلیٹن میں یہ اطلاع دی۔ کورونا انفیکشن کے نئے معاملات میں سے 253 معاملے یوکرائن کی فوج میں پائے گئے ہیں۔
استیپانوف کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یوکرائن میں کورونا انفیکشن سے چار لوگوں کی موت ہونے سے اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 735 ہو گئی ہے۔ اس دوران 125 لوگوں کو مکمل طور پر ٹھیک ہونے کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ یوکرائن میں اب تک 10440 لوگ کووڈ -19 سے مکمل طور ٹھیک ہو چکے ہیں۔