بھوپال کے شاہ پورہ میں پجاری نے مندرمیں نماز اداکرنے کی دی اجازت

قومی یکجہتی کی مثال:

بھوپال:3مئی(نیانظریہ بیورو)
ہمارے ملک ہندوستان میں جہاں کچھ لوگوں نے مذہب کے نام پر نفرت پھیلاکر ملک کوٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ، وہیں محبت سے زندگی بسر کرنے والوں نے اپنی یکجہتی سے گنگا جمنی تہذیب کو زندہ رکھاہوا ہے۔ راجدھانی بھوپال کے شاہ پورہ علاقے کے ایک مندر میں اس بے مثال نظارے کو دیکھ کر لوگوں کے منھ سے ایک ہی بات نکلی ، یہ ہمارے ملک کی ثقافت ہے اور اسے کوئی نہیں مٹاسکتا ۔ دراصل معاملہ یہ ہے کہ لاک ڈاﺅن کے حالات کی وجہ سے فی الحال مسجدوں میں تالا بندی کے حالات ہےں۔ مندروں میں بھی محدود لوگوں کے ساتھ پوجا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہیں حالات میں بروز منگل شاہ پورہ علاقے میں رائسین کے ایک مسلم شخص کو کچھ ضروری کام سے یہاںآنا پڑاتھا۔ اسی دوران شام کی مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ جس کی وجہ سے مسلم شخص نے نماز کے لئے کوئی معقول جگہ تلاش کی،لیکن اسے نماز پڑھنے کے لئے صاف ستھری اور مناسب جگہ جو پسند آئی، وہ ایک مندر کا حصہ تھا۔ مسلم شخص نے جاکر مندر کے پجاری سے نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کی اوراجازت طلب کی۔ یہ سن کر مندر کے پجاری نے نہ صرف وضو کے لئے پانی مہیا کرایا بلکہ نماز پڑھنے کے لئے ایک صاف کپڑا بھی اس شخص کے حوالے کیا۔ جس وقت یہ مسلم شخص مندر کی زمین میں نماز ادا کررہا تھا، اسی دوران مندر کی آرتی کا بھی وقت تھا۔ اور یہاں محدود لوگوں کی موجودگی میں پوجا بھی جارہی تھی۔
ان کا کہنا ہے:ہر مذہب نے اپنی روایات کے لحاظ سے ایشور،اللہ کو اپنا عقیدہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔ لیکن زندگی اور موت کے بعد سب کا ایک ہی مذہب اور سب کو اسی ایشور (اللہ کی پناہ) میں جانا ہے۔ سیاسی جھگڑوں نے لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کررکھا ہے۔ باوجود اس کے آج بھی اس ملک کی تہذیب سب کے ساتھ مل کر رہنے کی ہے اور لوگ اس کی پابندی بھی کرتے ہیں۔ ہمیں انسانیت کوقائم رکھنا ہے۔سب کے ساتھ میل محبت سے جیناہے۔