بی جے پی امیدواروں کی نامزدگی غیر قانونی ، عدالت میں کرینگے چیلنج:کانگریس

راجیہ سبھا انتخابات:

بھوپال:3جون(نیانظریہ بیورو)
کانگریس نے مدھیہ پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی کے دونوں امیدواروں ، جیوتی رادتیہ سندھیا اور پروفیسر سومیر سنگھ سولنکی کی نامزدگی پر سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ دونوں کی نامزدگی نمائندگی عوامی ایکٹ 1951 کے تحت غلط ہے۔ عدالت سے ان کی امیدواری منسوخ کرنے کے لئے درخواست دی جائے گی ۔
واضح رہے کہ کانگریس کے قانونی سیل کے سربراہ راجیہ سبھا رکن وویوک تنکھا نے ٹویٹ کرکے معلومات دی ہیں۔ تاہم ، راجیہ سبھا انتخابات کے لئے نامزدگی کے وقت ، کانگریس نے ایک اعتراض درج کرایا تھا۔ لیکن کانگریس کے اس اعتراض کو اسمبلی کے پرنسپل سکریٹری ، راجیہ سبھا انتخابات کے ریٹرننگ افسر اے پی سنگھ نے مسترد کردیاتھا۔ اب وویویک تنکھا نے ٹویٹ کرکے عدالت میں چیلنج کرنے کی معلومات دی ہیں۔
اس معاملے میں کانگریس ترجمان اجے سنگھ یادو کا کہنا ہے ، راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی کے دونوں رہنماو¿ں کی نامزدگی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ بی جے پی کے راجیہ سبھا امیدوار جیوتی رادتیہ سندھیا کی نامزدگی فارم کے ساتھ جس طرح ایف آئی آر کی معلومات چھپی ہوئی تھیں ، ان کی نامزدگی منسوخ کردی جانی چاہئے تھی۔
اس معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔ مہاراشٹرا کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے 2014 کے انتخابات میں اپنی ایف آئی آر کی معلومات کو چھپایا تھا اور جب اس معاملے میں عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی ، تو انہوں نے اس کیس کو ختم کرنے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی نمائندگی ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیاتھا۔ لہذا ، اسی بنیاد پر جیوتی رادتیہ سندھیا کی نامزدگی منسوخ کی جانی چاہئے۔
وہیںکانگریس کا کہنا ہے کہ ، اسی طرح سومیر سنگھ سولنکی نے 12 مارچ کو اپنی نامزدگی داخل کی تھی ، لیکن سرکاری ملازمت سے ان کا استعفی 13 مارچ کو قبول کرکیاگیا تھا۔ جس دن انہوں نے اپنا نامزدگی داخل کی تھی، اس دن وہ سرکاری ملازم تھے ، لہذا ان کی نامزدگی کو عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت منسوخ کیا جانا چاہئے۔