کیجریوال جھوٹے ہیں، عوام کو گمراہ کرتے ہیں: سندیپ دیکشت

کانگریس لیڈر سندیپ دیکشت نے ایک ویڈیو میں اروند کیجریوال سے متعلق کچھ باتوں کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ کس طرح وزیر اعلیٰ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں۔

کانگریس کے کئی لیڈران دہلی کی کیجریوال حکومت کی ناکامیوں کی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔ ایسا وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے ذریعہ شروع کی گئی ایک مہم کے رد عمل کی شکل میں کیا جا رہا ہے۔ اس درمیان 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخاب اور دہلی کے میونسپل کارپوریشن انتخاب کے مدنظر کانگریس کے سینئر لیڈر سندیپ دیکشت نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال پر ہر ایشو پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے۔ دراصل دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ اس کے ذریعہ دہلی کے لوگوں سے دہلی حکومت کے اچھے کاموں کی ویڈیو بنا کر پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور اتر پردیش کے لوگوں سے شیئر کرنے کو کہا گیا ہے۔ اب کانگریس پارٹی کی طرف سے کیجریوال کی اس مہم کو لے کر تلخ رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

کانگریس لیڈر نے ایک ویڈیو میں اروند کیجریوال کو لے کر کچھ باتوں کا تذکرہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح وزیر اعلیٰ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ دراصل کانگریس اس بار دہلی میں بن رہے فلائی اوور کے ایشو پر دہلی حکومت کو گھیرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اسی ایشو پر سندیپ دیکشت نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ وزیر اعلیٰ نے ہر ایشو پر جھوٹ بولا ہے۔ وہ بہت جھوٹ بول رہے ہیں، لیکن آج کچھ ایسے جھوٹ ظاہر کروں گا جو گزشتہ 4-3 سالوں سے وزیر اعلیٰ ہر دن بغیر کسی بات کے بولتے رہے ہیں۔

سندیپ کے مطابق اس جھوٹ بولنے کے پیچھے ایک مقصد ہے خود کو ایماندار ثابت کرنے کا اور پرانی حکومتوں کو بے ایمان ثابت کرنے کا۔ وزیر اعلیٰ نے کئی بار دعویٰ کیا کہ ہم نے فلائی اوور کم قیمت میں بنائے کیونکہ ہم ایک ایماندار حکومت تھے، لیکن سچ کچھ اور ہے۔ کانگریس لیڈر سندیپ دیکشت کے مطابق سال 2011 میں شیلا دیکشت جی کی حکومت کے دوران تمام فلائی اوور بنتے تھے، وہیں پی ڈبلیو ڈی کو ایک تکنیک سمجھ میں آئی اس تکنیک سے پیسہ بچایا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد کانگریس کی حکومت نے 2012 میں اپنی کابینہ میں یہ فیصلہ لیا کہ ہم نئی تکنیک کا استعمال کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی کے آزاد پور میں ایک فلائی اوور کا 2012 میں کانگریس کی حکومت میں ایک تخمینہ تیار ہوا 247 کروڑ روپے کا اور نئی تکنیک کے ذریعہ سے 2013 میں جب ٹنڈر دیا گیا تو گھٹ کر آیا 182 کروڑ روپے۔ اس کے بعد 150 کروڑ میں 2015 میں جا کر پل بنتا ہے۔ اس وقت کیجریوال کی حکومت تھی، تو یہ پیسہ کانگریس کی حکومت میں بچا لیکن ہم نے کبھی اس کا تذکرہ نہیں کیا اور وزیر اعلیٰ اسی کو لے کر سب جگہ بتاتے ہیں۔

اسی طرح دیگر پُل بھی بنے اور یہی ہوا جس پر کیجریوال کہتے ہیں کہ ہماری حکومت میں ہوا، لیکن کام سارا کانگریس کی حکومت میں ہوا۔ دونوں پُلوں سے متعلق فیصلہ ایماندار کانگریس کی حکومت میں ہوا، لیکن کیا کبھی وزیر اعلیٰ نے یہ سچ بتایا؟ اس کے علاوہ سندیپ دیکشت نے کانگریس کارکنان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار ان کے لوگوں تک لے کر آئے اور سوال پوچھے کہ ایماندار حکومت کون تھی؟