انتقال پُر ملال: بھوپال کے مشہور شاعر اقبال بیدار نے کہا دارِ فانی کو الوداع

بھوپال12 جنوری(نیا نظریہ بیورو)بڑے ہی افسوس کے ساتھ یہ خبر لکھی جارہی ہے کہ جناب اقبال بیدار صاحب کا آج 12جنوری کو انتقال ہوگیا ہے۔ان کی تدفین باغ فرحت افزاہ میں ہوئی۔جناب اقبال بیدار صاحب اہل بھوپال کے لئے کسی کے تعارف محتاج نہیں تھے،ان کی پیدائش 4جنوری 1936ئ کو سیہور کے مذہبی ماحول والے گھرانے میں ہوئی تھی اور انتقال 12جنوری 2022ئ کو ہوا۔انہیں ابتداءسے ہی تعلیم کا شوق تھا یہی شوق انہیں علی گڑھ لے گیا۔وہاں سے انٹرمیڈیٹ اور ادیب ماہر کیا اور الیکٹریکل ڈپلومہ بھی کیا اور اپنی بہتر صلاحیتوں سے اے کلاس الیکٹریکل کنٹریکٹر ہوگئے۔مدھیہ پردیش الکٹری سٹی بورڈ میں 1950ئ سے 1980ئ تک پھر 1980ئ سے 1987ئ تک سعودی عرب میں خدمات انجام دیں۔سروس کی ذمہ داری کےساتھ ساتھ شاعری کا شوق بھی پروان چڑھتا رہا۔1999ئ میں پہلا مجموعہ ”گھروندے ریت کے“اور پھر 2010ئ میں ”آئینہ دل“ شائع ہوا ا سکے بعد ”جنگ آزادی میں اُردو کا حصہ“رقصِ ابلیس“اور نعتیہ مجموعہ ”ثنائے محمد“شائع ہوا۔اقبال بیدار نے ہندوستان ہی نہیں جدہ،دمام، ریاض اور کراچی کے مشاعروں میں غزل سرائی سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔انہوںنے 1998ئ میں بزم ڈاکٹر اقبال کی تشکیل کی اور اُردو ادب کی ترقی میں سرگرم رہے۔آج ایسا علم دوست شخص ہم سب سے جدا ہوگیا،ان کے انتقال پر ادارہ روزنامہ نیا نظریہ تعزیت پیش کرتا ہے اور ان کی مغفرت کے لئے دعا گو ہے۔