غیر قانونی ریت کان کنی معاملے میں دگوجئے سنگھ نے لکھا وزیر اعلیٰ کو خط

ہوشنگ آباد12 جنوری(عادل فاضلی)پیلے سونے کے بارے میں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ ممبرپارلیمنٹ دگ وجئے سنگھ نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ پنہ ضلع کے اجئے گڑھ تحصیل کے درجنوں دیہاتوں سے اب تک ہزاروں کروڑ روپے کی ریت فروخت ہو چکی ہے۔ آپ کے وزیر معدنیات برجیندر پرتاپ سنگھ اس علاقے کے ایم ایل اے ہیں اور بی جے پی ریاستی صدر وی ڈی شرما ایم پی ہیں۔یہ نیا ریت گھوٹالہ ہوشنگ آباد ضلع میں بھی سامنے آیا ہے، یہاں کے انچارج وزیر برجیندر پرتاپ سنگھ ہیں ۔
میں نے پہلے آپ کو ایک خط لکھا تھا جس میں برجیندر پرتاپ سنگھ کو کابینہ سے برخاست کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔ جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ پنہ کے ریت معدنیات گھوٹالے میں شریک تھے۔ اب ان کے الزام میں ضلع میں سینکڑوں کروڑ کا ایک اور ریت گھوٹالہ آپ کے سامنے آگیا ہے۔میرا ماننا ہے کہ ہوشنگ آباد کمشنر کے ذریعے کمپنی کو اسٹاک میں موجود ریت کی تصدیق کرانی چاہیے تاکہ ریت کا کھیل منظر عام پر آسکے۔ کیونکہ ہوشنگ آباد کی ضلع انتظامیہ وزیر انچارج برجیندر پرتاپ سنگھ کے دباو ¿ میں کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ منرل کارپوریشن کی جانب سے 5 اکتوبر کو لکھے گئے خط پر بھی کلکٹر سطح سے اسٹاک سے متعلق کارروائی نہیں کی گئی۔جبکہ ٹھیکے کی دفعہ 7 کے تحت ضلع سطح سے کارروائی کی جانی تھی، ریت کا ٹھیکیدارا سٹاک کے نام پر ریت نکال کر حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔کمپنی ندی سے ریت نکال رہی ہے اور اسٹاک کے نام پر ای ٹی پی جاری رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ فراڈ اعلیٰ سطح کی سیاسی سرپرستی سے ہو رہا ہے۔ آپ آئے روز مافیا کے خلاف کارروائی کی بات کرتے ہیں لیکن کارروائی کہیں نظر نہیں آتی۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ہوشنگ آباد ضلع کے انچارج وزیر برجیندر پرتاپ سنگھ کو ضلع کے انچارج وزیر کے عہدے سے ہٹایا جائے اور ریت کے ذخیرے کی تصدیق ہوشنگ آباد کمشنر کی قیادت میں کی جائے۔مدھیہ پردیش حکومت کو ایک سو پچاس کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچانے والی کمپنی کے خلاف مجرمانہ دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا جائے اور معدنیات کے قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔