آئین کو پڑھنا اور سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے:احتشام ہاشمی

دارالعلوم علامہ عبدالحی حسنی ندوی میں’دستورِ ہند کے جمہوری تقاضے‘ موضوع پر پروگرام کے ذریعہ عوام میں بیداری کی ہوئی کوشش
بھوپال11 جنوری(پریس ریلیز)موجودہ وقت ہمارے لئے بظاہرمشکل نظرآتا ہے،کیوں کہ ہمارے ذہن میں فرقہ پرست پارٹیوں،تنظیموں سمیت شرپسندوں کاخوف حاوی ہے۔ایسااس لئے ہے کہ ہم نے دستورکوپڑھاہی نہیں،ہمارے ملک کے قانون نے ہمیں کیاکیاحق دیئے ہیں،اس کے بارے میں ہم جانتے ہی نہیں،اگرہم قانون کی کتاب کامطالعہ کریں،ہم اپنے حقوق سے متعلق معلومات رکھیں، توجب بھی ہم پرکوئی قانونی گردش آئے گی توہم سوال کریں گے ،تب آپ کوبے وجہ پریشان کرنے والے افرادسمجھ جائیں گے کہ اِن پرہاتھ ڈالنامہنگاپڑسکتاہے۔اس لئے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب جس طرح اپنی مذہبی اوراپنے بنیادی ضروریات کی کتابیں پڑھتے ہیں،اسی طرح ملک کے دستورکوبھی پڑھیں ،تاکہ ہم مکمل طورپراپنے حقوق سے واقف ہوسکیں اور آنے والی کوئی بھی قانونی ،مصنوعی اورسازشی آفت کوہم دستورکے مطابق منھ توڑ جواب دے سکیں۔
مذکورہ بالاخیالات کااظہاردارالعلوم علامہ عبدالحی حسنی ندوی جنسی جہانگیرآباد بھوپال میں بروزمنگل صبح گیارہ بجے سپریم کورٹ کے سینئرایڈووکیٹ احتشام ہاشمی نے کیا۔اس موقع پر بھوپال وقف بورڈ ٹریبونل ایڈووکیٹ ثروت شریف خان اورسماجی کارکن ایڈووکیٹ محمدماہرکے علاوہ ایڈووکیٹ سیداشرف علی(ٹکس کنسلٹنٹ)نے لوگوں کوخطاب کیااورموجودہ وقت کے لحاظ سے تعلیمی پسماندگی کودورکرنے پرزوردیا۔ مقرررین نے کہاکہ اگرہم تعلیم یافتہ ہونگے توہی اپنے حقوق کامطالبہ کرسکتے ہیں۔پروگرام کے آخرمیں مہمان وفدکادارالعلوم نے اعزازکیا۔وہیں آخرمیں دارالعلوم کے ناظم مولانامحمدمعاذ نے تمام وکلاءوشرکاءکاشکریہ اداکیا اوروقتاً فوقتاً رہنمائی کی درخواست کی۔
اس موقع پر دارالعلوم کے دیگراستاذ مولاناڈاکٹرشمس الدین ندوی،مولانامحمد محبوب ندوی،مولانایوسف ندوی ،مفتی سلمان قاسمی، مولانامحمدمشکور خان ندوی سمیت دیگرعلماءکرام موجودرہے۔