بُلی ڈیل ایپ بنانے والے ”اونکاریشور ٹھاکر“ کی گرفتاری مسلمانوں کے تئیں نفرت کے خلاف قانونی شکنجہ: مفتی توصیف صدیقی

نیمچ 11 جنوری 2022 (پریس ریلیز)ملک میں مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند طریقے سے چلائے جا رہے نفرت کے ماحول کے خلاف سرکار کی خاموشی اور پولس انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی نہ کرنے سے غنڈوں اور سماج دشمنوں کے حوصلے مزید بڑھ رہے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی بیان بازی اور ان کی جان، مال اور عزت کو لوٹنے والی سازشیں سامنے آ رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل ضلع نیمچ (ایم پی) کے سکریٹری مفتی محمد توصیف صدیقی نے کیا۔ انہوں نے اپنے صحافتی بیان میں مزید کہا کہ مسلم خواتین کی نیلامی، ان کی نازیبا اور قابل اعتراض تصاویر و ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرنے والے ایپ ”بُلی بائی“ بنانے اور چلانے والوں کی گرفتاری کے بعد ”سُلی ڈِیل ایپ“ بنانے والے ”اونکاریشور ٹھاکر“ کی اندور سے گرفتاری مسلمانوں کے تئیں پنپ رہی نفرت کے خلاف قانونی شکنجہ ہے۔ یہ گرفتاری سرکار اور پولس کی سست رفتار کارروائی پر چوطرفہ آواز اٹھانے کے بعد بدنامی سے بچنے کے لیے کی گئی ہے؛ کیوں کہ تقریبا پانچ ماہ قبل 3 اگست 2021 کو ہی قومی اقلیتی کمیشن نے اس قابل اعتراض ”سلی ڈیل ایپ“ کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے دہلی اور غازی آباد پولس سے جواب طلب کیا تھا؛ پولس انتظامیہ اس معاملے میں نہایت سست رفتاری سے اپنا کام کر رہی تھی اور مجرم کی گرفتاری میں تقریبا پانچ ماہ سے بھی زیادہ وقت لگادیا۔ گرفتاری کے بعد پولس کی پوچھ تاچھ پر مجرم نے قبول کیا ہے کہ وہ ٹویٹر پر ایک ”ٹریڈ گروپ“ کا ممبر ہے اور مسلمان خواتین کو بدنام اور ٹرول کرنے کے لیے اپنا مشورہ دیتا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس معاملے میں ایسی گندی ذہنیت کے لوگوں کا ایک پورا گروپ مسلمان خواتین کو بدنام کرنے کی سازش رچ رہا ہے، لہذا باقی لوگوں کی گرفتاری بھی نہایت ضروری ہے تاکہ سماج سے ایسے لوگوں کا صفایا ہوجائے اور خواتین کی عزت محفوظ رہے۔
مفتی توصیف صدیقی نے کہا کہ: گذشتہ چند سالوں سے صوبہ مدھیہ پردیش ملک دشمن اور سماج دشمن عناصر کا ٹھکانہ بنتا جارہا ہے؛ کانپور کا نامی گرامی غنڈہ ”وکاس دوبے“ ہو، یا بُلی بائی اور سلی ڈیل ایپ بنانے والے، ان سب کے تار بھی کہیں نہ کہیں مدھیہ پردیش سے ہی جڑے ہوئے نکلے۔ یہ بات مدھیہ پردیش کے عوام کے لیے کافی تشویشناک ہے۔
مفتی توصیف صدیقی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دھرم سنسد کے نام پر ملک میں مسلمانوں کے تئیں نفرت اور خانہ جنگی کا اعلان کرنے والوں پر بھی سخت کارروائی کرے اور ایسے لوگوں کو گرفتار کر کے ملک کے امن و امان کو مزید خراب ہونے سے بچائے اور بھارت کے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے۔