وویک تنکھا ہتک عزت معاملہ: جبل پور ڈسٹرکٹ کورٹ نے وزیر اعلیٰ سمیت تین لیڈروں سے مانگا جواب

بھوپال10 جنوری(نیا نظریہ بیورو)او بی سی معاملے میں کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ وویک تنکھا پر غلط بیان بازی کرنے کے معاملے میںپیر کو جبل پور ڈسٹرکٹ کورٹ نے نوٹس جاری کیاہے۔ عدالت نے اس معاملے میں وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ، بی جے پی کے ریاستی صدر وی ڈی شرما اور وزیر بھوپیندر سنگھ سے جواب طلب کیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 25 فروری کو ہوگی۔
چھ دن پہلے ایم پی تنکھا کی جانب سے ان کے وکیل ششانک شیکھر نے 10 کروڑ روپے کے ہتک عزت کا دعوی کرتے ہوئے (کرمنل اور سول سوٹ)فوجداری اور دیوانی مقدمہ دائر کیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ او بی سی معاملے میں وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ سمیت مذکورہ تینوں لیڈروں نے غلط بیانی کی۔ کانگریس لیڈر اور سینئر ایڈوکیٹ ،راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا پر جھوٹے الزامات لگائے۔ ان کی شبیہ کو مخالف او بی سی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس معاملے میں ایک قانونی نوٹس جاری کیا گیا تھا اور وزیر اعلیٰ سمیت تینوں رہنماو ¿ں سے عوامی معافی مانگنے کو کہا گیا تھا۔ تینوں لیڈروں نے اپنی غلطی بھی تسلیم نہیں کی۔ جس کی وجہ سے انہیں عدالت آنا پڑا۔
سابق ایڈوکیٹ جنرل ششانک شیکھر نے کہا کہ او بی سی کیس میں میری پارٹی کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ ان کے بارے میں وہ باتیں کہی گئی تھیں جو میری پارٹی نے نہ تو پٹیشن میں کی تھیں اور نہ ہی سپریم کورٹ کے عمل کے دوران ایسا کچھ کہا تھا۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے شیئر کیا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے ایم پی میں او بی سی سیٹوں کے انتخاب پر پابندی کے بعدوزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ، بی جے پی کے ریاستی صدر وی ڈی شرما اور شہری انتظامیہ کے وزیر بھوپیندر سنگھ نے وویک تنکھا کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ میں ان کی عرضی کی وجہ سے ایسا حکم دیا گیا ہے۔ اسے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وویک تنکھا کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ششانک شیکھر نے 19 دسمبر کو وزیر اعلیٰ سمیت تین لیڈروں کو 10 کروڑ روپے کے ہتک عزت کا دعویٰ کرتے ہوئے نوٹس بھیجا تھا