افغانستان کے 90 فیصد مراکز صحت 2022 کے آخر تک بند ہو جائیں گے: رپورٹ

کابل ۔9 جنوری۔ بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (IRC) کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ اقتصادی صورتحال کی وجہ سے افغانستان کے تقریباً 90 فیصد صحت مراکز 2022 کے آخر تک بند ہو سکتے ہیں۔ مقامی میڈیا نے IRC کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اگر موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال جاری رہی تو لاکھوں افغان عوام صحت کی سہولیات سے محروم رہ جائیں گے اور لاکھوں مزید جانیں گنوا سکتے ہیں۔افغانستان کے عوام کو تاریک مستقبل کی وارننگ دیتے ہوئے رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2022 کے آخر تک ملک کے 97 فیصد لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ افغانستان میں صحت کے مراکز کی گڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے، IRC نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آگے آئے اور امداد فراہم کرکے افغانستان کے صحت کے شعبے کی مدد کرے۔دریں اثنا، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی( نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس وقت افغانستان میں محنت کشوں کی برطرفی اور ملک کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنے کی وجہ سے شدید غربت کا سامنا ہے۔ڈبلیو ایف پی نے یہ بھی کہا کہ تنظیم کو 2.6 بلین امریکی ڈالر تک کی ضرورت ہے تاکہ تقریباً 23 ملین افغان لوگوں کو کھانا کھلایا جا سکے جو اب بھوک کے دہانے پر ہیں۔