پاکستان ڈیورنڈ لائن تنازع پر طالبان کے ساتھ ‘انڈر ٹیبل’ ڈیل میں مصروف

اسلام آباد ۔9 جنوری۔ پاکستان کی فوج ڈیورنڈ لائن کے ساتھ اپنے علاقے کو افغانستان تک پھیلانا چاہتی ہے اور یہ کام طالبان کے علم کے ساتھ خاموشی سے کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی ‘ میز کے نیچے’ تجویز کا امکان ہے کہ افغان سرحد کے اندر ایک اضافی ‘سیف زون’ بنایا جائے تاکہ موثر سرحدی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی میڈیانے رپورٹ کیا کہ سرحد پر باڑ لگانے کے اس نئے طریقے سے طالبان انتظامیہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ دسمبر کے آخری ہفتے میں حالات قابو سے باہر ہو گئے جب طالبان کی جانب سے سرحدی رکاوٹوں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے بعد دونوں ملکوں کی سرحدی افواج نے ایک دوسرے پر گولی چلائی۔ حالات پر قابو پانے سے قبل فائرنگ کا تبادلہ آدھے گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ بعد ازاں مختصر جھڑپوں کی افواہیں بھی پھیل گئیں۔ راولپنڈی کے جنرل سرحدی لڑائی سے گھبرا گئے اور انہوں نے طالبان حکام سے فوری ملاقات کا مطالبہ کیا۔ ان مباحثوں میں، خفیہ سودے بازی کی گئی تھی۔ سرکاری بیان کے مطابق، سرحدی رکاوٹوں کا کام اتفاق رائے سے جاری رکھا جائے گا۔ 5 جنوری 2022 کو، پاکستانی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سرحدی رکاوٹوں کا بقیہ 6% کام منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھے گا۔اس سے قبل، ڈیورنڈ لائن پر چمن سرحد پر باب دوستی (دوستی کا دروازہ) 1996 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول سے قبل پاکستان میں تقریباً 1 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ تاہم، طالبان کے دور میں اس کی لمبائی بڑھا دی گئی۔