عمردرازرہنماوں کے بجائے نوجوانوں کودی جائے وقف کی ذمہ داری

عمردرازرہنماوں کے بجائے

 

نوجوانوں کودی جائے وقف کی ذمہ داری
بھوپال:30مئی(نیانظریہ بیورو)
مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے کروڑوں روپے کی وقفیہ جائیداد اور آمدنی کے نام پر صفرمدھیہ پردیش وقف بورڈ کے حصے کی جائیداد کا گراف مسلسل کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ وجہ اس کی حفاظت کے لئے پابند کئے جانے والے لوگوں کی بد نیتی کہی جاسکتی ہے۔ ضعیف اور کمزور ہوچکے بزرگوں کے بجائے وقفیہ جائیداد کی حفاظت کی ذمہ داری نوجوان نسل کے ہاتھوں میںسونپی جائے تو تبدیلی کے کچھ آثار سامنے آسکتے ہیں۔ ریاست کے کچھ وقف کمیٹیوں پر تعینات نوجوانوں نے یہ بات ثابت کرکے بھی دکھائی ہے۔ پورے ملک کی تقریباً18ہزار سے زائد وقفیہ جائیداد پر تقریباً ڈیڑھ ہزار سے زائد کمیٹیاں قابض ہیں۔ ان میں بیشتر کمیٹی ایسے لوگوں کے حوالے ہیں،جو برسوں سے ان پر قابض ہےں۔ وقف کی باریکیوں کے سبب دستاویزات مٹچکے اور اللہ کی جائیداد کو نجی ملکیت مان بیٹھے ایسے لوگوں سے نہ وقف کی آمدنی میں کوئی مدد مل پارہی ہے اور نہ ہی قوم کو کوئی فائدہ حاصل ہورہا ہے۔
چندہ نگرانی میں بھی چوری:برسوں سے وقف کمیٹیوں پر قابض بزرگ افراد پالیسی کے مطابق دی جانے والی 7فیصدی چندہ نگرانی بھی نہیں پہنچا پارہے ہیں۔ کروڑوں روپے کے قرض دار ایسی کمیٹیوں کے لوگوں پر جب کوئی کارروائی کی شروعات ہوتی ہے تو وہ یا تو سیاسی دخل درمیان میں لے آتے ہیں یا عدالت میں لے جاکر معاملے کو الجھادیتے ہیں۔
نوجوانوں نے کیا کمال:بزرگوں کی موجودگی والی کمیٹیوں کے مقابلے ریاست میں کئی کمیٹیاں ایسی بھی ہیں۔ جن پر نوجوان عہدیدار ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ راجگڑھ کی بابا بدخشنی درگاہ کی وقف کمیٹی اس وقت ریاست کی سب سے زیادہ چندہ نگرانی اداکرنے والی کمیٹی ثابت ہورہی ہے۔ احتشام صدیقی کی صدارت والی اس کمیٹی نے اپنی مختصر مدت میں کئی بڑی کامیابیاں اپنے نام درج کی ہیں۔ جہاں بزرگوں کی ٹیم نے محض کچھ پیسہ بورڈ کو پہنچاتا رہا ہے۔ وہیں احتشام صدیقی کی کمیٹی نے اس آمد کو لاکھوں روپے میں تبدیل کردیا ہے۔ ساتھ ہی درگاہ پرآنے والے زائرین کے لئے کئی سہولیات اور شہر کے کمزور طبقے کے لئے کئی مہم نے وقف کی منشا کو آگے بڑھانے میں مدد کی ہے۔ شیونی مالوہ کے شعیب رضا صدیقی ہوں یا اندور کے شکیل راج ،نوجوانوں کی اس ٹیم نے بھی وقف بورڈ کے حقوق کو پورا کرنے کے لئے کافی کوششیں کی ہےں۔