کوروناوباسے محفوظ رہنے کے ساتھ عوام میں ذہنی تناو بھی بڑھ رہاہے:ماہرنفسیات


بھوپال:30مئی(نیانظریہ بیورو)
کورونا وائرس نے ملک کی معیشت کو خراب کیا ہے ، لہذا لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے گھروں میں قید لوگوں میں ذہنی بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں ، جو آنے والے وقت کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن سکتے ہیں۔ میڈیانے اس بارے میں ماہر نفسیات ستیہ کانت ترویدی سے بات کی ، ڈاکٹر ستیہ کانت ترویدی نے کہا کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے کے لئے لاک ڈاو¿ن بہت ضروری تھا ، لیکن جب بات ذہنی صحت کی ہو تو اس کا لوگوں کی ذہنی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ، لاک ڈاو¿ن کے دوران 30 سے 40 فیصد ذہنی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہر نفسیات ستیہ کانت ترویدی نے گفتگوکے دوران بتایاکہ جن کے تعلقات اچھے نہیں ہیں ، وہ سوشل میڈیا اور موبائل زیادہ استعمال کرتے ہیں اوران کے رشتے گھروالوں سے بہتر نہیں ہوتے ہےں ، کیوں کہ سوشل میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔، لہذا وہ شخص ایسے لوگوں کو پسند کرتاجوانہیں اس طرح کی سرگرمیوں سے روکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی دنیامیں بچوں کے لئے کھیلوں کو بھی اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وہ فوراً ہی اس کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔اس کے غلط نتائج بعدمیں سامنے آتے ہیں۔
ذہنی دباو¿ کی تیاری پہلے سے ہی کرنی ہوگی کیونکہ اگر ذہنی طورپرانسان پریشان ہوجائے تو خود کشی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں ، لہذا آپ کو کورونا کے ساتھ رہنا پڑے گا ،کیونکہ یہ بیماری نئی ہے اور اس میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
انہوں نے گفتگوکرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر آپ کو تنہائی محسوس ہوتی ہے تو ماہر نفسیات سے ملیں۔ اس کے علاوہ ، اپنے دماغ میں پیداہورہی خیالات کو خاندانی افراداور دوستوں کے ساتھ شیئرکریںاور موبائل کو کم سے کم استعمال کریں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملیں ، 3 سے 5 کلومیٹر پیدل چلیں ، نئی چیزیں سیکھیں ، کچھ نیا آزمائیں ،بیماری سے خوفزدہ یا سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ جہاں لوگ گھروں میں قید ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو محفوظ محسوس کررہے ہیں وہیں لوگوں میں ذہنی تناو¿ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کی لت بھی تناو¿ کی ایک وجہ بن رہی ہے ، اس صورتحال میں ماہر نفسیات کامشہورہ ہے کہ اس تناو¿ اور ذہنی بیماریوں سے بچنے کے لئے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے گفتگوکریں اوراپنے ذہن کوصاف رکھیں،اوراگرایساکچھ محسوس ہوتا ہے تودوستوں سے اس موضو ع پرتبادلہ خیال کریں۔