دینی مدارس، ہمارے سماج اور معاشرے کو کیادے رہے ہیں؟(1)

 

 

 

تحریر: سرفراز احمد قاسمی
جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک،حیدرآباد،
برائے رابطہ 8099695186

اس وقت پوری دنیا میں بڑے چھوٹے بے شماردینی مدارس اوردینی ادارے قائم ہیں،اور وہ شب وروز اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں،انکی خدمات کادائرہ بے حد وسیع ہے،ہمارے ملک بھارت میں بھی لاکھوں کی تعداد میں یہ دینی مدارس قائم ہیں اور کام کررہے ہیں،مجھے یہ کہنے میں بالکل کوئی جھجھک نہیں ہے کہ یہ تحریک مدارس پوری دنیا کی “سب سے بڑی تحریک ہے”اور منظم انداز میں بغیر کسی چیزکی پرواہ کئے دینی اداروں کا یہ سفر برسوں سے جاری ہے،جب یہ اتنی بڑی تحریک ہے تواب اس پروقفے قفے سے سوالات بھی کئے جاتے ہیں کچھ سوالات تو اپنوں کی جانب سے ہوتے ہیں اور کچھ غیروں کی جانب سے، حالانکہ بارہا اسکاجواب دیا جاتارہاہے،لیکن سوالوں کا یہ سلسلہ ابھی تک برقرار ہے،اور شاید یہ آگے بھی برقرار رہے،ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ سوال کرنا غلط ہے بلکہ غلط یہ ہے کہ مناسب جواب مل جانے کے بعد بھی اپنے موقف پر قائم رہاجائے، ہمارے یہاں سوالات کرنے والوں کا ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو خود کو”تعلیم یافتہ” اور”ماڈرن” سمجھتا ہے،اسی لئے انکی جانب سے گاہے بگاہے تنقیدوں کی بوچھار ہوتی رہتی ہے،کبھی انکے نظام و انصرام پر تنقید کی جاتی ہے، کبھی وہاں دی جانے والی تعلیم پرسوال کھڑے کئے جاتے ہیں تو کبھی وہاں پڑھنے اور پڑھانے والوں پر تیرو نشتر کی بوچھار کی جاتی ہے،ایسے میں یہ جاننا بے حد ضروری ہوجاتاہے کہ آخر یہ دینی مدراس کیا ہیں؟ کیوں قائم کئے گئے؟ اسکا مقصد کیا ہے؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں یہ ادارے ہمارے سماج اور معاشرے کو کیا دے رہے ہیں؟وغیرہ وغیرہ ظاہر ہے اس طرح کے سوالات اسلئے بھی اٹھائے جاتے ہیں یا”پیدا”کیے جاتے ہیں کیوں کہ ہرسال ان اداروں پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور یہ رقم کسی حکومت کی جانب سے فراہم نہیں کی جاتی،بلکہ یہ قوم کا پیسہ ہوتاہے جو مالدار اور دولت مندوں کے علاوہ غریب ومزدور کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے، جسکو غریب مسلمان ایناپیٹ کاٹ کر اور ایک ایک روپے جوڑ کر بلکہ جمع کرکے ان اداروں پر خرچ کرتاہے اور بغیر کسی دنیوی لالچ اور حرص کے خرچ کرتاہے،ایسے میں اس طرح کے سوالوں کا اٹھنا کوئی بعید نہیں،حالانکہ ان دینی مدارس کی خدمات اتنی واضح اور روشن ہے کہ کسی سوال کی چنداں ضرورت نہیں، لیکن کچھ لوگوں کادل ہے کہ مانتا نہیں،آئیے سب سے پہلے یہ سمجھتے ہیں آخر یہ دینی مدارس ہیں کیا اور یہ کیوں قائم کئے گئے ہیں؟ہندوستان میں جب انگریزوں کی آمد ہوئی تو اس وقت یہاں مسلمانوں کی حکومت تھی،اچانک انگریز ہندوستان میں تجارت کی غرض سے داخل ہوگئے،اور رفتہ رفتہ یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے،یہاں اثرورسوخ حاصل کرنے کے بعد ہرچیز پر قابض ہوگئے،اور پھر ہندوستان کو عیسائی ملک بنانے کا منظم پلان اور منصوبہ تیارکرلیا،اس مشن کی تکمیل کےلئے وہ ہندوستان کے سیاسی،تعلیمی اور انتظامی امور میں مداخلت کرنے لگے،اور اپنی شاطرانہ و عیارانہ چالوں کے ذریعے کامیاب ہوتے چلے گئے،چنانچہ جب انھوں نے ہندوستان میں اقتدار حاصل کرلیا،تو منصوبہ بندی کے تحت یورپ سے عیسائی پادریوں اور مسیحیت کے مبلغین کاسیلاب امڈ آیا،شہروں سے لیکر گاؤں تک عیسائیت کاجال بچھادیا گیا،یہ مبلغین ہرطرف پھیل گئے،یہ لوگ صرف اپنے مذہب کے فضائل ومحاسن بیان کرنے پراکتفا نہیں کرتے تھے،بلکہ ایسا لٹریچر شائع کرتے تھے جس میں ہندوستان بھر کے مذاہب بالخصوص مذہب اسلام کی تعلیمات کامذاق اڑایا جاتا تھا،پیغمر اسلام ﷺ،مسلم بادشاہوں اور بزرگوں کی توہین وتذلیل کی جاتی تھی،یہ سلسلہ جاری تھا کہ 1834۶ میں چرچ آف انگلستان کا مشہور مبلغ،ڈاکٹر سی جی فینڈر، ہندوستان آیا یہ ایک جرمن نزاد پادری تھا اور انگلش کے علاوہ عربی وفارسی دونوں زبانوں میں تقریر وتحریر پر مہارت رکھتاتھا،اس نے اسی سال فارسی زبان(جواسوقت ہندوستان کی قومی زبان تھی)
میں اسلام کی تردید میں ایک کتاب شائع کی جسکا نام میزان الحق تھا،ایک طرف تو یہ سرگرمیاں جاری تھیں تو دوسری جانب “تحریک اسکول”چلایا جارہاتھا،بڑی تعداد میں اسکول وکالج کھولے جارہے تھے،پیسوں اور ملازمتوں کالالچ دیکر مسلمانوں کوایسی تعلیم پانے پر مجبور کیاجانے لگا،ان اسکولوں میں ایسانصاب پڑھایا جاتا تھا،جس سے اسلامی عقائد پرکاری ضرب لگ سکے،1835۶ میں ہی ایک تعلیمی نظام مرتب کیا گیا،لارڈ میکالے جوانگریزی حکومت وزیر تعلیم تھا اس نے اپنے نئے تعلیمی نظام کو متعارف کراتے ہوئے یہ بیان جاری کیاکہ”ہم اس تعلیمی نظام کے ذریعے ایک ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں جو رنگ ونسل کے لحاظ سے تو ہندوستانی ہو مگر فکرو عمل کے اعتبار سے عیسائیت کے سانچے میں ڈھلی ہو”یہ تعلیمی نظام چونکہ مسلمانوں کے مذہبی زندگی کے سخت خلاف تھا،اسی لئے مسلمان ابھی اپنے مذہبی تشخص اورقومی شعور کو بیدار رکھنے کی کوئی مؤثر تدبیر سوچ بھی نہیں سکے تھے کہ اس دوران 1857۶ کی جنگ چھڑگئی،اور مسلمانوں نے انگریزی حکومت کے خلاف علم
بغاوت بلند کردیا،مگر اس میں ناکامی ہاتھ لگی،جسکی بے پناہ تباہ کاریوں نے دلوں کو ہیبت زدہ،دماغوں کو ماؤف اور حوصلوں کو پست کردیا،مسلمانوں کی 800 سوسالہ اقتدار اور شان وشوکت کاخاتمہ ہوچکاتھا،مسلمان ذریعۂ معاش سے یکسر محروم کردئیے گئے اورانکی جائیدادوں کو ضبط کرلیا گیا،اوقاف کی وہ جائیدادیں جن سے ہندوستان کی مسلم حکومت،مدارس کابھرپور تعاون کرتی تھی،اور انھیں جائیدادوں پرمدارس کا انحصار تھا،انگریزی دورحکومت میں انکو بھی ضبط کر لیاگیا،جس سے مسلمانوں کے سینکڑوں سال کاتعلیمی نظام درہم برہم اور برباد ہوگیا،برطانوی پارلیمنٹ کے”برک”نامی ایک ممبر نے پارلیمنٹ میں اپنی جویاد داشت پیش کی تھی،اس میں لکھا ہے کہ”ان مقامات میں جہاں علم کاچرچا تھا اور جہاں دور دور سے علم کے متلاشی حصول علم کے لئے آتے تھے،آج وہاں علم کابازار ٹھنڈا پڑگیا ہے”دہلی شہر جو کئی سو برسوں سے اسلامی علوم وفنون اور تحقیق وتدقیق کا مرکزتھا،جہاں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے علم حدیث کاایک بہترین باغ لگایاتھا،
وہ اسی انقلاب 1857۶ میں اجڑگیا اور ہزاروں علمائے کرام اس میں شہید کردئیے گئے،انگریزی حکومت کی تائید وحمایت سے ملک کے طول وعرض میں “مسیحی تبلیغ” کے جوادارے قائم کئے گئے تھے ستاون کے انقلاب کے بعد اور اس میں توسیع کردی گئی،عیسائی پادری کھلے عام، بازاروں،میلوں اور عام مجمع میں اسلام اور صاحب شریعت سرکاردوعالم ﷺ پرتنقید واعتراض کرنے لگے،جسکی وجہ ارتداد کا بازار خوب گرم ہوگیا،(تفصیلات کےلئے دیکھئے،مسلمانوں کانظام تعلیم وتربیت، مولانامناظر احسن گیلانیؒ)جب صورتحال یہ ہوگئی تواس وقت جو علماء بچ گئے تھے اب انکو فکر دامن گیر ہوئی کہ اگراس پرقابو پانے کی تدابیر اختیار نہ کی گئی توملک سے مسلمانوں کا صفایا کردیا جائے گا،کیونکہ انگریزوں کے مقابل مسلمان ہی تھے جن سے انگریزوں نے آٹھ سو سالہ حکومت چھینی تھی،اسی لئے انگریزوں نے اپنے ظلم وستم کاخاص نشانہ مسلمانوں کو بنایا،بے شمار لوگوں کو گرفتار کیاگیا اور وحشیانہ طور پرپھانسی پر لٹکا دیاگیا،اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اب ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کاکوئی مستقبل نہیں،لیکن خدا کی قدرت کہ بچے کھچھے علماء نے پھرسے عزم کیا،اور اسلام ومسلمانوں کے تحفظ کےلئے سرگرم ہوگئے،اسی سرگرمی اورجدو جہد کے نتیجے میں 30مئی 1866۶، پندرہ محرم الحرام،سہارنپور،یوپی کے ایک قصبہ دیوبند میں،قاسم العلوم والخیرات مولان قاسم نانوتویؒ نے اپنے رفقاء کے ساتھ انتہائی سادگی اور بغیر کسی رسمی تقریب اور نمائش کے”دارالعلوم دیوبند”کی بنیاد ڈالی،عملی طور پریہاں سے”تحریک مدارس”کاآغاز کردیاگیا،جسکو آج ام المدارس کہاجاتاہے،اور پوری دنیا میں جسکی ہزاروں شاخیں قائم ہیں،کوئی تصور نہیں کرسکتاتھاکہ صرف ایک استاذ اور ایک شاگرد سے شروع ہونے والا یہ ادارہ پوری دنیا میں انقلاب برپاکرے گا،لیکن اللہ کی مرضی ہے وہ جس سے چاہتاہے کام لے لیتاہے وہ کسی کامحتاج نہیں،بانی دارالعلوم،مولانا قاسم نانوتویؒ جنکے پاس پہننے کےلئے ایک دو جوڑے سے زیادہ کپڑے بھی نہیں تھے،انھوں نے آخرکیوں دارالعلوم قائم کیا؟ اور کیوں اتنی بڑی تحریک چلائی؟حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ اس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ “بانی دارالعلوم دیوبند،مولانا قاسم نانوتوی” نے انگریز کے تعلیمی نظام کے مقابلے کےلئے دارالعلوم کی بنیاد ڈالی،جسکامقصد یہ ہےکہ ہمیں اس ادارے سے ایسے نوجوان اورایسے افراد تیارکرنا ہےجو رنگ ونسل کے اعتبار سے تو ہندی وسندھی،ایرانی وافغانی اورخراسانی و ترکستانی ہوں لیکن روح وفکر کے لحاظ سے وہ اسلامی ہوں”(مثالی شخصیات) اوپر کی تحریر سے یہ توسمجھ میں آگیا ہوگاکہ آخردینی ادروں کے قیام کا مقصد کیا ہے؟کچھ لوگوں کااعتراض یہ بھی ہےکہ مدارس اور دینی ادرے پہلے کیوں نہیں تھے اب کیوں ہیں؟ انکےلئے حضرت قاری صدیق احمد باندویؒ کایہ اقتباس پیش خدمت ہے،وہ رقم طراز ہیں کہ”رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد اسوقت صرف مدینہ منورہ میں 6عظیم الشان درس گاہیں تھیں،سب سے بڑی درس گاہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی تھی،آپ بہت بڑی عالمہ فاضلہ تھیں،9سال رسول اکرم ﷺ کی نکاح میں رہیں،حضورﷺ کی وفات کے وقت انکی عمر 18سال تھی،اسی نو سال کے درمیان میں بڑے بڑے علوم حاصل کئے،حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کابیان ہے کہ جب کبھی صحابہ کو کسی مسئلہ میں مشکل پیش آتی اور وہ حل نہ ہوتی تو حضرت عائشہ صدیقہ سے دریافت کرتے انکے پاس ضرور انکا حل نکل آتا،
دوسری درسگاہ حضرت زیدابن ثابتؓ کی تھی،آپ اتنے بڑے عالم تھے کہ جس وقت سوار ہوتے تھے تو حضرت ابن عباسؓ جیسے جلیل القدر عالم انکی رکاب تھام لیتے تھے،جس وقت انکا انتقال ہوا اور قبر میں رکھے گئے،توابن عباسؓ نے فرمایاکہ علم یوں جاتاہے آج علم کابہت بڑا حصہ دفن ہوگیا،حضرت ابوہریرہؓ باوجود اپنی جلالت علمی کے آج امت کاعالم اٹھ گیاہے۔
تیسری درسگاہ حضرت ابوہریرہؓ کی تھی جنکے پاس آٹھ سوطلبہ زیر تعلیم تھے۔
چوتھی درسگاہ حضرت جابر ابن عبداللہؓ کی تھی،انکا حلقہ درس خاص مسجد نبوی میں تھا۔
پانچویں درس گاہ حضرت ابوسعیدؓ کی تھی۔
چھٹی درسگاہ حضرت عمرؓ کے صاحب زادے حضرت عبداللہؓ کی تھی،جنھوں نے 60برس تک حدیث کی اشاعت کی۔اسکے علاوہ مکہ مکرمہ میں حضرت ابن عباسؓ تعلیم دیتے تھے اورعلمی تبحر کی بنا پر انکو بحرالعلوم یعنی علم کادریا کہاجاتا تھا،(فضائل علم والعلماء)یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ خود سرکار دوعالم ﷺ کے زمانے میں دوادارے”دارارقم”اور”صفہ” کے نام سے قائم تھے جسکی نگرانی خودآپ ﷺ فرماتے تھے۔اب یہ سوال کہ مدرسہ کیا ہے؟اسکی حقیقت کیاہے؟یہ جاننے کےلئے،مفکراسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی کا ایک معروف اقتباس یہاں کافی ہوگا،وہ رقم طراز ہیں کہ”مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے جہاں مردم گری اور مردم سازی کا کام ہوتاہے،جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں،مدرسہ عالم اسلام کاوہ بجلی گھر(پاورہاؤس)ہے جہاں سے اسلامی آبادی بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے،مدرسہ وہ کارخانہ ہے جہاں قلب و نگاہ ڈھلتے ہیں،مدرسہ وہ کائنات ہے جہاں سے پوری کائنات کااحتساب ہوتاہے اورپوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے،جہاں کافرمان پورے عالم پرنافذ ہے،عالم کا فرمان اس پرنافذ نہیں،اسکا تعلق براہ راست نبوت محمدی ﷺ سے ہے جوعالمگیربھی ہےاور زندہ جاوید بھی،اسکا تعلق اس انسانیت سے ہے جو ہردم جواں ہے،اس زندگی سے ہے جو ہمہ وقت رواں دواں ہے ہردور اور ہرزمانے میں اس نے اہم رول اداکیا ہے”(ماہنامہ اذان بلال آگرہ)ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ “دینی مدرسہ کے بارے میں میرانقطہ نظر بہت سے ان بھائیوں اور پڑھے لکھے دوستوں سے مختلف ہے جو مدرسوں سے واقفیت کا دعویٰ رکھتے ہیں،یااس سے تعلقات رکھتے ہیں،میں مدرسے کو پڑھنے پڑھانے اور پڑھا لکھاانسان بنانے کا کارخانہ نہیں سمجھتا،میں مدرسے کی اس حیثیت کو تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں ہوں، میں اس سطح پرآنے کوتیار نہیں ہوں کہ مدرسہ اسی طریقہ سے پڑھنا لکھنا سکھانے یا یوں کہنا چاہیے کہ پڑھنے لکھنے کاہنر سیکھنے کاایک مرکز ہے،جیسے کہ دوسرے اسکول اور کالج ہیں،میں مدرسے کو نائبین رسول اور خلافت الہی کا فرض انجام دینے والے اور انسانیت کو ہدایت کا پیغام دینے والے اور انسانیت کو اپنا تحفظ وبقا کا راستہ دکھانے والے افراد پیدا کرنے والوں کاایک مرکز سمجھتاہوں،میں مدرسہ کو آدم گری اورمردم سازی کا ایک کارخانہ سمجھتاہوں،جسطرح فیکٹریاں ہوتی ہیں،مختلف قسم کی،کوئی گن فیکٹری ہوتی ہے،کوئی شوگر فیکٹری ہوتی ہے،کوئی کسی اور قسم کی مشین ڈھالتی ہے،ہیوی الیکٹرک کے سامان پیداکرنے کے بہت سے کارخانے ہیں،ہم انکی بہت قدر کرتے ہیں،ہم انکی ملک میں ضرورت تسلیم کرتے ہیں،ہم انکی تحقیر نہیں کرتے،لیکن چیزوں کے مختلف درجے ہوتے ہیں،مدرسہ اس طرح کے پڑھے لکھے آدمی پیدا کرنے کا مرکز نہیں،مدرسہ ایسے لوگوں کے پیدا کرنے کا مرکز ہے جنکا ابھی آپ کے سامنے ذکر کیا گیا،یہ الگ بات ہے کہ مدرسہ ایسا کررہا ہے یانہیں؟اور ہرمدرسہ یہ کرنا چاہتاہے یا نہیں؟اسکا اس اصولی بحث سے کوئی تعلق نہیں،میں مدرسے کے ایک خادم کی حیثیت سے اور مختلف مدارس سے تعلق رکھنے والے کی حیثیت سے اس بات کو تسلیم کرتاہوں کہ بہت سے مدارس یہ فرض انجام دینے سے قاصر ہیں یا قاصر ہوگئے ہیں،پہلے یہ فرض وہ انجام دیا کرتے تھے،اب یہ فرض وہ انجام نہیں دے رہےہیں کیوں؟لیکن مدرسے کو کیافرض انجام دینا چاہیے،مدرسہ کا فرض کیاہے؟مدرسہ کے سپرد کونسا کام کیا گیاہے؟”(پاجاسراغ زندگی)درج بالا اقتباس اور اوپر کی تحریروں سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ مدرسہ کیا ہے،کیوں قائم کیاگیا؟ اسکامقصد کیاہے؟مدرسہ کس چیز کانام ہے؟ وغیرہ وغیرہ
حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ ،مدارس دینیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ “آج جو مدارس ومکاتب قائم کئے جارہے ہیں ،یہ دراصل انسانی خصوصیت کو اجاگر کیاجارہاہے،انسان کی افضلیت کو برقرار رکھنے کےلئے یہ سب کچھ کیا جارہاہے ،اگریہ مدارس قائم نہ کئے جائیں ،یہ جامعات قائم نہ کی جائیں اورتعلیم نہ دی جائے اورفرض کیجئے کہ تعلیم مٹ گئی توانسانیت مٹ گئی،یہ تعلیم وتعلم کاساراجھگڑا انسان کی بقاء کےلئے ہے کیونکہ یہ انکی خصوصیت ہے،دینی اداروں کاقائم ہونا یہ ایک سعادت ہے اورمبارک علامت ہے،یہ انسانیت کے برقرار رکھنے کا ایک اہم سلسلہ ہے یہ جتنا مضبوط ہوگا،انسانیت اتنی ہی مضبوط اور مستحکم ہوگی،جتنی نیک نیتی اوراخلاص کےساتھ تعلیم دی جائے گی اتناہی فی الحقیقت آدمیت کو اونچا بنایاجائے گا،خلاصہ یہ ہے کہ مدارس بقاء انسانیت کااہم ذریعہ ہیں”(ملاحظہ ہو خطبات حکیم الاسلام جلددوم)
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مدارس کاکوئی تذکرہ قرآنِ وحدیث میں ہےہی نہیں پھر کیونکر اس پر اتنی توجہ دی جاری ہے ؟اور گاؤں سے لیکر شہر تک میں اسکا جال بچھایا جارہاہے؟ اسکے جواب کےلئے ہم یہاں مولاناعلی میاں ندوی ؒ کاایک اقتباس نقل کررہے ہیں،فرماتے ہیں کہ”اگرپوچھا جائے کہ قرآن کریم میں سب کچھ ہے،اس میں ہرطرح کے علوم وفنون ہیں،ہرطرح کے حقائق ہیں،کیامدارس اورجامعات کابھی اس میں کہیں تذکرہ ہے؟ہم نےجہاں تک مطالعہ کیاکہیں نام نہیں دیکھا،نہ جامعہ کے نام سے کوئی چیزہے اورنہ مدرسے کےنام سے،یہ مدرسے کہاں سے آئے ؟اورکب سے آئے؟یہ کہاں سے نکالے گئے؟کیسے انکو قائم کیاگیا؟اور یہ دانش گاہیں اورجامعات کب سےقائم ہوگئے؟یہ تعلیم وتعلم کے مراکز یہ کتابوں کامطالعہ ،ان میں جو مخصوص علوم ہیں قرآن فہمی کےلئے ،حدیث کےلئے ،انکا پڑھنا ،ان میں سالہا سال لگالینا،خودکواسکےلئے وقف کردینا اوریکسو ہوجانا،اپنے گھروں پہ نہ کمائی کرنا اورنہ کوئی دوسرافن سیکھنا،یاکسی دوسری مشغولیت میں خودکو وقف کردینا،اسکاقرآن مجید میں کہاں ذکرآیاہے؟توہم کہیں گے اپنے مطالعے کی بناپراور قرآن مجید سےجوتوفیق الہی سے فہم حاصل ہواہےاسکی بناپر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت سے مراد مدارس وجامعات ہیں،جسکامفہوم یہ ہے اللہ تعالی فرماتاہے کہ”یہ بات تو آسان اور ممکن نہیں ہے اورہرجگہ قابل عمل نہیں ہےکہ اہل ایمان سب کے سب کھڑے ہوجائیں،اپنے سب کام کاج چھوڑدیں اوراپنے تمام مشاغل ترک کردیں لیکن ایسا کیوں نہیں ہوتاکہ ان میں سے ہرجماعت اورہرگروہ میں سے ایک جماعت اور ایک گروہ کھڑا ہوجاتا،تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کرے،اورجب دین کاضروری علم یہ لوگ حاصل کرلیتے اورانکو علم ہوجاتا تو پھر وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ انکے پاس واپس جائیں،تاکہ وہ لوگ احتیاط کرنے لگیں اورڈرنے لگیں”(سورہ توبہ آیت 122)اس آیت میں صاف صاف دینی مدارس اور جامعات کی تعریف کی گئی ہے،اور اسکے فوائد ومقاصد کوبیان کیاگیاہے”(ملت اسلامیہ کا مقام اور پیغام)دینی اداروں اور عصری اداروں میں کیا فرق ہے ؟اس پرانشاء اللہ کسی دوسرے موقعے پر مفصل گفتگو کی جائےگی،ابھی صرف اتنا کافی ہے کہ دینی اداروں اور عصری اداروں کی تعلیم میں فرق ہے ؟اور کیوں ان دونوں کے مقاصد ایک جیسے نہیں ہیں ؟ اس بارے میں حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی ؒ کا ایک اقتباس یہاں پیش ہے،فرماتے ہیں کہ “ہم انگریزی پڑھنے کو بالکل منع نہیں کرتے ،مگر جو طریقہ اختیار کیاگیا ہے وہ غلط ہے،ایک بچہ انگریزی پڑھتاہے تو یہ سمجھتاہے کہ یہ نماز وغیرہ تو مدرسے میں جو طالب علم پڑھتے ہیں انکا کام ہے،روزہ رکھنا انکا کام ہے،انکو ان چیزوں سے اسلامی وضع قطع سے نہ کوئی دلچسپی ہے اور نہ وہ اپنے لئے اسکو ضروری سمجھتے ہیں،بلکہ وہ اپنے لئے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ان تعلیمات کی مخالفت کریں، اگروہ ایسا نہیں کرتے تو اپنی نسبت سمجھتے ہیں کہ لوگ ہم کو دقیانوسی اور قدیم خیال کا آدمی تصور کریں گے،یہ ساری برائیاں ہیں ،یہ برائیاں اسکول وکالج سے تو دفع ہونے کی نہیں ،لیکن کسی مجبوری کے تحت جب ہمارے ان میں پڑھتے ہیں تو انکی ذہنی تربیت کا انتظام کرنا چاہئے”(حیات ابوالمآثر جلد1)اس اقتباس سے بھی آپ نے اندازہ لگایا ہوگا کہ دینی مدارس کے مقابلے عصری تعلیم گاہیں کس قدر “روشن خیالی” کی راہ پر گامزن ہیں اوروہاں پڑھنے والی ہماری اولادیں کونسی تعلیم حاصل کررہی ہیں؟ تعلیم کے نام پر انھیں کیا فراہم کیاجارہاہے؟ اور انکی ذہنی تربیت کس رخ پر کی جارہی ہے؟اوپر جتنے بھی اقتباس نقل کئے گئے وہ سب کے سب علماء دین اور اہل علم حضرات سے متعلق ہے،کچھ لوگوں کے دل میں شاید یہ خیال پیدا ہوگا کہ یہ سب تو عالموں کے خیالات ہیں،توآئیے ذرادیکھتے ہیں کہ غیر عالم کا دینی مدارس کے بارے میں کیا موقف ہے؟ ایک اقتباس ہم یہاں شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کا نقل کررہےہیں ،یہ وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی دینی ادراوں کا رخ نہیں کیا اور نہ وہاں کوئی تعلیم حاصل کی ،کالج ویونیورسٹی کی فضاء میں پلنے اور بڑھنے والے اس مفکر کی نگاہ میں دینی مدارس کی اہمیت کیاہے ؟وہ لکھتے ہیں کہ”ان مکتبوں اور مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو،غریب مسلمانوں کے بچوں کو انھیں مدارس میں پڑھنے دو،اگریہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیاہوگا؟ جو کچھ ہو گا میں انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں،اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس(اسپین)میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا،ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اوردلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ حکومت اور انکی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا”(دینی مدارس ماضی حال اور مستقبل)یہ کسی عالم اور کسی خانقاہ میں بیٹھکر لوگوں کی رشدوہدایت کا فریضہ انجام دینے والے کسی اللہ والے کاتاثر نہیں ،یہ ایک “مسٹر” کی سوچ ہے انکی دوراندیشی ہے اور انکی یہ فکر ہے جنھوں نے تقریبا پوری دنیا کی سیر کی ہے اور جی بھر کر دنیا کے حالا ت سے واقفیت حاصل کی ہے،جنھوں نے کبھی کسی مدرسے کی کسی کمیٹی یااسکے کسی انتظام وانصرام میں کوئی حصہ نہیں لیا لیکن اسکے بادجود انکا یہ خیال اورانکی یہ سوچ بہت سے مسٹروں اور دینی اداروں پر طعن و تشنیع کرنے والے،ماڈن تعلیم یافتہ کہلانے والےمدارس کے”نادان دوستوں “کےلئے لائق تقلید ہے، اور لمحہِ فکریہ بھی،جولوگ آج بھی یہ کہتے ہیں کہ دینی مدارس سے سماج اور معاشرے کاکوئی فائدہ نہیں ،انکوبند کردینا چاہئے یامدارس کے نصاب میں تبدیلی ہونی چاہئے اورزمانے کے ساتھ ان دینی اداروں کو چلنا چاہئے،ایسے لوگوں کو باربار یہ اقتباس پڑھنا چاہئے اورغوروفکر کرنا چاہئے،کچھ لوگوں کو یہ بھی اعتراض ہے کہ اب مدارس میں پہلے جیسے علماء تیار نہیں ہوتے تو پھر ان مدارس کاکیا فائدہ؟مفتی اعظم ہند ،حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ سے ایک صاحب نے(جنکے والد بڑےنیک دل تھے)سوال کیا کہ حضرت اب پہلے جیسے علماء کیوں نہیں ہوتے؟ یعنی حضرت تھانویؒ اور دیگر بڑےعلماء کے جیسے،تو حضرت مفتی صاحب ؒ نے ان سے فرمایاکہ پہلے تو تم یہ بتلاؤ کہ تم اپنے والد کے جیسے کیوں نہیں ؟تمہارے والدتو ایسے ایسے تھے تم ایسےکیوں نہیں؟پھراسکے بعد فرمایاکہ جیسے پہلے استاذ ہوتے تھے ویسے ہی انکے شاگرد ہوتے تھے،اب مجھ جیسا استاذ ہے تو شاگرد بھی مجھ جیساہی ہوگا،نیزپہلے کے لوگ خون پسینہ ایک کرکے صرف جائز طریقے سے ہی پیسےکماتے تھے اورحرام سے اجتناب کرتے تھے،اسی خالص حلال کی کمائی سے اخلاص کے ساتھ چندہ دیتے تھے وہ طلبہ پر خرچ ہوتاتھااسلئے اسکے اثرات اچھے نمودار ہوتے تھے،اور بہترین علماء تیار ہوتے تھے،اوراب لوگوں میں حلال وحرام کی تمیز نہیں رہی بس مال کے پیچھے پڑے ہیں کسی طرح ملنا چاہئے،گو حرام ہی ہو،اسی سے چندہ دیتے ہیں اوراگر حلال کمائی ہوتی بھی ہے تو اس میں عام طور پراخلاص نہیں ہوتا،وہی طلبہ پر خرچ ہوتاہےپس جیسا مال ویسے ہی اسکے اثرات ظاہر ہورہے ہیں”(ملفوظات فقیہ الامت جلد2)
جاری ہے