گورنرکاعہدہ آئینی ہے: اس عہدے پررہتے ہوئے سیاسی مشورہ دینامناسب نہیں:کانگریس


بھوپال:28مئی (نیانظریہ بیورو)
مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات کے پیش نظر بعد پارٹی میںتبدیلی اوردل بدلنے کی بحث بھی زور پکڑنے لگی ہے۔ سابق وزیر انوپ مشرا کے بارے میں بھی ایسی ہی گفتگو سننے کومل رہی ہے کہ وہ بی جے پی کو چھوڑ سکتے ہیں۔ ادھر منگل کو انوپ مشرا کی گورنر لال جی ٹنڈن سے ملاقات کی خبر آگئی۔ بتایا جارہا ہے کہ گورنر نے انوپ مشرا کو بی جے پی میں رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس خبر کو سرخیوں میں آنے کے بعد کانگریس گورنرپر حملہ آور ہوگئی ہے۔
بتایاجاتا ہے کہ جیوتی رادتیہ سندھیا اور ان کے حامیوں نے کانگریس سے کنارہ کشی اختیار کرلی ، اس کے بعد یہ بھی دیکھاجارہاہے کہ ضمنی انتخاب میں سندھیا کے حامیوں کی زیادہ اہمیت ہوجانے کے بعد بی جے پی کے بہت سے رہنما ناراض ہیں۔ اس لئے بی جے پی میںمتعدد لیڈروں کے بارے میں یہ چرچا ہے کہ وہ بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس ایپی سوڈ میں گوالیار چمبل رہنما اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے بھتیجے انوپ مشراکے بی جے پی چھوڑنے اور کانگریس میں شمولیت کی بحث نے بھی زور پکڑنا شروع کردیا ہے۔
اس سلسلے میں کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری راجیو سنگھ کا کہنا ہے کہ راج بھون میں گورنر ایک آئینی عہدے پر ہیں۔اس لئے سب کو یکساں طور پر آشیروادحاصل ملنی چا ہئے ، راج بھون سیاسی سرگرمیوں کے لئے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بطوربزرگ وہ انوپ مشرا کو اپناکنبہ خیال کرکے آشیرواددے سکتے ہیں ، لیکن انھیں گورنر کی حیثیت سے سیاسی مشورے نہیں دیناچاہئے۔
واضح رہے کہ گورنر لال جی ٹنڈن نے انوپ مشرا کو بی جے پی میں رہنے کا مشورہ دیا ہے ، جس پر کانگریس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا عہدہ آئینی ہے۔ انہیں گورنر رہتے ہوئے سیاسی مشورے نہیں دینا چاہئے۔