لاک ڈاون کی مدت میں اضافے کی وجہ سے بہت سے کچن مراکز ہوئے بند

ضرورت مندوں کی بھوک کااب کون نگہبان

بھوپال:28مئی (نیانظریہ بیورو)
لاک ڈاﺅن کے حالات سے پریشان کمزور طبقے کے لوگوں کی مدد کرنے کےلئے درجنوں سماجی تنظیموں نے ہاتھ آگے بڑھارکھے ہیں۔ پورے شہر میں چل رہے سیکڑوں کی تعداد میں کچن سینٹروں کا نظام اب ڈگمگانے لگا ہے۔ دو مہینے سے زائد وقت تک شہر کی بڑی آبادی کو صبح وشام کھانے کے پیکیٹ مہیا کرانے کے بعد اب تیزی سے کچن سنیٹرسمٹنے لگے ہیں۔ حالات میں بہتری آنے سے قبل ہی سمٹتے کچن سینٹروں کی مار انتظامیہ کے ان دعوﺅں پر پڑنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، جس میں وہ شہر کے نظام کو اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھنے کے دعویٰ کرتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاک ڈاﺅن کے حالات شروع ہونے کے ساتھ ہی ضرورت مندلوگوں تک کھانا پہنچانے کا انتظام شہر کے کئی سماجی تنظیموں نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ اقبال میدان ستیہ گرہ ٹیم سے ہوئی شروعات کے بعد کچن سینٹروں کی تعدادمیں جومسلسل اضافہ اختیارکیا،جس نے تقریباً 85کے اعدادکوپارکرگیاتھا۔ ایم ایل اے عارف مسعود نے تقریباً درجنوں کچن کے علاوہ کئی سماجی تنظیموں کے ذریعہ دی جارہی خدمات سے شہر کے ڈیڑھ سے دولاکھ لوگوں تک کھانا پہنچنا آسان کردیا تھا۔ لاک ڈاﺅن کے تقریباً دو مہینے گذرجانے کے بعد جہاں ان تنظیموں کے اقتصادی دائرے سمٹنے لگے ہیں۔ وہیں کارکنان کے جوش میں بھی کمی دکھائی دینے لگی ہیں۔ ساتھ ہی کچن سینٹروں میں کافی تیزی سے کمی آئی ہے۔ جس کے نتیجے آنے والے دنوں میںنظرآسکتے ہیں کہ ضرورت مندوں کو کھاکے پیکٹ نہیں مل پانے کے حالات کی شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔
رمضان میں مدد میں ہوگیا اضافہ:لاک ڈاﺅن کے دور میں ہی شروع ہوئے رمضان کے مبارک مہینے میں مدد کے جذبے نے لوگوں کو راحت پہنچانے کے راستے آسان ہوگئے تھے۔ بھوپال سے گذرنے والے مزدوروںسے لے کر شہر میں موجود ضرورت مندوں کو راحت پہنچانے کے لئے بڑی تعداد میں لوگ آگے آگئے تھے۔ لےکن اس خرچ کا ایک محدود دائرہ اور وقت طے تھا، جو رمضان ختم ہونے کے ساتھ بند ہوگیا ہے۔
اب ایم ایل اے اور ستیہ گرہ ٹیم میدان میں باقی:مسلسل سمٹتے جارہے کچن سینٹروں میں گذشتہ دنوں عباس نگر میں جاوید بیگ اور ان کی ٹیم کے ذریعہ چلائے جا رہے کچن سینٹربھی بند ہوگئے ہےں۔ اس کے بعد اب شہر میں باقی کچن سینٹروں میں ایم ایل اے عارف مسعود ، ستیہ گرہ ٹیم کے ساتھ شاہ ویزسکندر ، بی بی ایم ٹیم،دانش خان وغیرہ کے کچن سینٹروں سے ہی کھانا تقسیم کیا جارہا ہے۔ اچانک کچن سینٹروں کے گھٹتے تعداد کی وجہ سے جہاں لوگوں کے سامنے کھانے کی پریشانی کھڑی ہوگئی ہے، وہیں موجودہ کچن پر لوڈ بھی بڑھ گیا ہے۔