دو سال سے لاوارث ، وقف بورڈ کی کب خبر لے گی حکومت:


بھوپال:27مئی (نیانظریہ بیورو)
اگست 2018میں اقتدارکی تبدیلی کے بعد بے دخل کئے گئے کروڑوں روپے کی جائیداد والے مدھیہ پردیش وقف بورڈ کوراحتملنے کے اب آثار کم نظر آرہے ہیں۔سابقہ کانگریس حکومت کے ذریعہ جبراً تھوپے گئے حکومت کے انتظامیہ کو نئی بی جے پی حکومت نے بھی خارج کر دیا ہے۔ جبکہ وقف دفعہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کی فکر نہ سابقہ حکومت نے لی اور نہ ہی نئی حکومت لے رہی ہے۔ وہیں وقف بورڈ کے کئی دعویداروں نے بورڈتشکیل کرنے کی امیدوں کو لے کر اپنے داو¿ چلنا شروع کردئیے ہیں۔ بی جے پی کے پاس اچھی شبیہ کے مسلم لیڈران کافقدان ہے۔
وقف ایکٹ1995کے تحت بورڈ کی تشکیل کی جاتی توحکومتیں اس کوبنائے رکھنے کے لئے پابندرہتیں۔ لیکن سابقہ حکومت نے وقف کے ایکٹ تحت بورڈ کی تشکیل نہیں کی تھی۔ یہاں حکومتی تقرری کرنے کے دوران بھی معاہدہ تقرری کے ضابطوں کا مذاق ہی اڑایا گیا ۔ محکماتی جانچ میں گھرے ایک افسر کو یہاں کا انتظامیہ ایڈ منسٹریٹر بناکر سارے حقوق اس کو سونپ دیئے تھے۔ اب حکو مت کی تبدیلی کے بعد
سابقہ میںبنائے گئے بورڈ کوختم کرنے کے ساتھ ہی بی جے پی نے نئے افسر کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔لیکن سابقہ حکومت کے دوراقتدارمیں لئے گئے فیصلوں اورکاموں پرخدشات کے بادل منڈلاتے نظرآرہے ہیں۔
ٓآسان نہیں بورڈ کا راستہ:
ضابطے کے مطابق بورڈ بنائے جانے کے لئے بی جے پی حکومت کے پاس نہ تو ضرورت کے مطابق ممبرآف پارلیمنٹ ہیں، اور نہ ہی ایم ایل اے۔ بورڈ کو وجود میں لانے کے لئے متولی اور بار کونسل ممبر کی بھی فی الحال موجودگی نہیں ہے۔ ایسے حالات میں کانگریس ایم ایل ایز کی موجود گی میں بی جے پی گذشتہ اقتدار کے معاملات کو دہراسکتی ہے۔ بی جے پی کے دوراقتدار میں جہاں کانگریس ممبرآف پارلیمنٹ غفرانِ اعظم کو بورڈ صدر بنایا جاچکا ہے۔ وہیں ایک مرتبہ ضابطے کے خلاف محض پانچ لوگوں کی کمیٹی سے بھی کام چلایا جاچکا ہے۔