بھوپال کے منگل واڑہ تھانہ انچارج کابے مثال کارنامہ


پولس نے صرف سختی ہی نہیں بلکہ حسن وسلوک کابھی رویہ اپنایا
بھوپال:27مئی(نیانظریہ بیورو)
لاک ڈاو¿ن کی سنگین صورتحال میں حالات پرقابوپانے کے لئے پولیس کو کبھی سخت الفاظ اور کبھی لاٹھی برسانے پر مجبور ہوناپڑا۔ لیکن اس دوران ، کچھ افسران اور فیلڈمیںتعینات مورچہ سنبھال رہے کچھ جوان ایسے بھی تھے ، جو نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے لاٹھیاں برسانے کے بجائے ، پیار ، اچھے سلوک اور حسن سلوک کا رویہ برقرار رکھنے کے علاوہ صورتحال پر قابو پانے میں بھی مہارت حاصل کی تھی۔
راجدھانی میں ایسی مثال پیش کرنے والے پولس اہلکاروں میں ایک منگلواڑہ تھانہ بھی شامل ہے۔ لاک ڈاو¿ن کے دوران آئے دن غریب لوگوں پر ڈنڈے برسانے والی پولس کی کہانیاں مسلسل سامنے آتی رہی ہےں۔ اس برعکس منگلواڑہ پولیس نے اچھے سلوک اورلوگوں سے ہمدردی والے رویے کواپناتے ہوئے ایک مختلف شبیہ قائم کی ہے۔ منگلواڑہ تھانےمیں 100 سے زیادہ کورونا مثبت مریض سامنے آئے ہیں۔ اس کے باوجود تھانہ انچارج سندیپ پوار نے لوگوں کو اپنے تھانے کے علاقے میں اس بیماری کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لئے گلیوں میں چل کر لاک ڈاو¿ن کی پیروی کرنے کا نہ صرف مشورہ دیابلکہ اپنے عملے کو بھی بچایا۔
مکرم بھی رہے آگے:
تھانہ انچارج کے ساتھ ہیڈ کانسٹیبل مکرم بھی ان کے ساتھ بحران کے وقت علاقے کے پریشان زدہ لوگوں کی مدد کے لئے دن رات مشغول رہے۔ پولیس اور عوام کے مابین ہم آہنگی بناکرمستقل کام کررہے ہیں۔ بیماروں کو اپنے وسائل سے اسپتال پہنچاتے رہے۔ معاشی تنگی سے گزرنے والے افرادکے گھروں تک کھانے کے پیکٹ بناکرپہنچارہے ہیں۔
ایسے لوگوں کاہوگا اعزاز:
سنیوکت سنگھرش مورچہ کے ریاستی صدر شمس الحسن نے بتایا کہ مشکل کی اس گھڑی میں لوگوں کی مدد کرنے والے ان پولیس افسران اور جوانوں کو شہری اعزاز سے نوازا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تھانہ منگلواڑہ کے انچارج اور دیگر عملے کوگلدستہ پیش کرکے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔