عدالت سے اسٹے کے بعد شوبھا اوجھا نے ریاستی خواتین کمیشن کی منعقد کی میٹنگ


بھوپال:27مئی(نیانظریہ بیورو)
ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن شوبھا اوجھا ہائی کورٹ سے اسٹے لینے کے بعد لاک ڈاو¿ن کے درمیان خواتین کمیشن دفتر پہنچیں اورمیٹنگ کی۔ اس دوران زیر التواءکاموں کا جائزہ لیا گیا ۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد موجودہ حکومت نے کمل ناتھ حکومت کی طرف سے کی جانے والی تقرریوں کو منسوخ کردیا تھا۔
خواتین کمیشن کی ایگزیکٹو ممبر کے علاوہ خواتین کمیشن کی چیئرمین شوبھا اوجھا نے بھی ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ اس کے بعد ، انہیںبھی اس معاملے میں اسٹے مل گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، جو ممبران کو بطور ایگزیکٹو مقرر کیا گیا تھا ، انھیں عدالت نے اسٹے دیدیاہے۔
خواتین کمیشن کی پہلی جائزہ میٹنگ کے دوران شوبھا اوجھا نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں خواتین کے مفادات ، ان کی حفاظت ، ان کی عزت اور ان کو خوف سے پاک ماحول دلانا خواتین کمیشن کا فرض ہے ، یہ افسوسناک ہے کہ خواتین کمیشن سے متعلق تقریباً دس ہزار مقدمات پہلے ہی زیر التواءہیں ، جن میں انصاف کی فراہمی کرانا ہمارے لئے ایک چیلنج والا ہدف ہے ، لیکن ہم اس مشکل مقصد کے حصول کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں۔
شوبھا اوجھا نے بتایا کہ اب تک زیر التوا مقدمات کے علاوہ ، لاک ڈاو¿ن کے دوران 181 سے زیادہ مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان تمام معاملات کا جلد جائزہ لیا جائے گا ، تاکہ سب کو انصاف مل سکے۔ مذکورہ میٹنگ میں موجود تمام ممبران ، افسران اور عملہ نے سماجی دوری پر بہت اچھی طرح سے عمل کرتے ہوئے کمیشن کے کام اور نتائج کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیشن کے کام کاج میں بنیادی تبدیلیوں کی حمایت کرنے کے علاوہ ، شوبھا اوجھا کو بھی مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا۔ کمیشن کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب اس طرح کے جائزہ اجلاسوں کا انعقاد تسلسل کے ساتھ کیا جائے گا ، تاکہ معاملات کمیشن میں زیر التواءنہ ہوں۔