مولاناآزادنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کے ہاسٹل کوکورنٹائن سینٹربنانے پرطلباءنے شروع کیا احتجاج


بھوپال:27مئی(نیانظریہ بیورو)
ریاست میں کوروناوائرس سے انفیکٹیڈہونے والوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ریاست کے بہت سے اضلاع میں اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے انتظامیہ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ راجدھانی بھوپال میں بھی روزانہ متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے متاثرہ مریضوں اور مشتبہ مریضوں کو بہتر علاج فراہمی کے لئے کورنٹائن سینٹرز بنائے جارہے ہیں ، جس کے تحت اب مولاناآزاد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالاجی (مینٹ)کے ہاسٹل بھی قرنطینہ سنٹر بنائے جارہے ہیں۔ اس کے خلاف طلبا مخالفت میںاتر آئے ہیں۔
طلباکا سامان ہاسٹل کے دوسرے کمروں میں شفٹ کیاجارہاہے۔ذرائع کے مطابق مینٹ میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو خوف ہے کہ اگر یہاں مریضوں کے قیام کا نظام بنایا جارہا ہے تو کہیں نہ کہیں طلبا میں بھی انفیکشن پھیلنے کا اندیشہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ان کا ذاتی سامان کمروں میں رکھا ہے اور ہاسٹل میں کوئی طالب علم موجود نہیں ہے۔ لاک ڈاو¿ن نافذ ہونے کے بعد تمام طلبہ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں ، لیکن ان کا سارا سامان ہاسٹل کے کمروں میں رکھا ہوا ہے۔ طلباءکوسامان کی حفاظت کے بارے میںبھی تشویش بڑھ گئی ہے۔
طلباءمیں خوف و ہراس جیسی حالت:
ایم اے این آئی ٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کے تیسرے سال کے طالب علم ، ویبھو ملہوترا کا کہنا ہے کہ ریاست بھر میں لاک ڈاو¿ن نافذ ہونے کے بعد ، تمام طلباءاپنا سامان ہاسٹل میں چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے گئے ، حالانکہ ہاسٹل کے کمروں میںطلباءنے تالے لگادئے تھے۔ لیکن ، 23 تاریخ کو ، مینٹ مینجمنٹ کی جانب سے ایک حکم جاری کیا گیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ مینٹ کمپلیکس کو قرنطینہ مرکز بنایا جانا چاہئے۔ تب سے ، طلباءمیں خوف و ہراس جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ، کیونکہ تمام طلبا کو لگتا ہے کہ ان کے ہاسٹل کے کمروں کے تالے ٹوٹ جائیں گے اور وہاں پر کورنٹائن مرکز بنایا جائے گا۔
طلبہ کا پریشان ہونا فطری ہے:
طلبہ کا پریشان ہونا فطری ہے ، کیوں کہ سب کے لیپ ٹاپ ، اہم دستاویزات اور مطالعے سے متعلق کتب کمرے میں رکھی ہوئی ہیں۔ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے ، تمام طلباءاپنا سامان وہاں چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اس معاملے سے متعلق تمام طلبا کی جانب سے ٹویٹر پر ایک مہم بھی چلائی گئی تھی اور MANIT مینجمنٹ کو معلومات بھی دی گئیں۔ اس کے بعد ، تمام طلباءنے انتظامیہ کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے۔ جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کیمپس میں کچھ اور تدریسی مراکز بھی تعمیر کیے گئے ہیں ، اگر ان کو قرنطینہ مرکز بنایا جائے تو بہتر ہوگا۔
ویبھو ملہوترا نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آتی ہے توہاسٹل کے تمام کمروں کو بھی کورنٹائن مرکز میں تبدیل کردیا جائے ، انتظامیہ کو ایک سرکلر جاری کر تمام طلبہ کو یہ یقین دہانی کرانا چاہئے کہ ان کے کمروں میں رکھے ہوئے سامان غائب نہیں ہوں گے۔ نیز ، جب طلباءواپس آئیں گے تو تمام سامان انہیں بحفاظت مل جائے گا۔ اس کی وجہ سے ، طلباءکے اندر جو گھبراہٹ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔