وپی میں شدید گرمی جاری، 2-3 دنوں میں راحت کے امکانات

لکھنؤ: اترپردیش میں بڑھتی دھوپ کی تمازت و گرام ہواؤں نے لوگوں کو ہلکان کردیا ہے۔لاک ڈاؤن کے ساتھ اب سورج کی کرنوں بھی لوگوں کو باہر نکلنے کے لئے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ تک ریاست کے لوگوں کو گرمی سے راحت ملنے کے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ تاہم ریاست کے شاملی خطے میں دو دن بعد آندھی طوفان اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کے امکانات ہیں۔جبکہ ریاست کے دیگر حصوں میں تین دنوں بعد گرمی سے کچھ راحت اور تیز ہواؤں و بارش سے کچھ حد تک راحت مل سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست کے ضلع پریاگ راج 47.1ڈگری سلسیس کے ساتھ گذشتہ 24گھنٹوں میں سب سے گرم ضلع رہا۔بڑھتی گرمی کو دیکھتے ہوئے لکھنؤ اور کانپور کے چڑیا گھروں میں جانوروں کو موسم کی تند مزاجی سے بچانے کے لئے واٹر کولر اور کولر کے انتظامات کئے گئے ہیں۔

آج لکھنؤ کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔جبکہ جھانسی کا درجہ حرات 46 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔آگرہ کا درجہ حرارت 46ڈگری رہا۔کانپور کا اس سال کا سب سے اوپر پارہ آج 45ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔

سورج کی تمازت اور ہواؤں کی تند مزاجی کو دیکھتے ہوئے ماہرین کم سے کم باہر نکلنے اور کھانے پینے میں ایسی اشیاء کے استعمال کے مشورے دے رہے ہیں جس سے جسم میں پانی بنا رہے۔موسمی پھل کے ساتھ کھیرا، ککڑی، تربوزہ اور خربوز ہ صحت کے لئے کافی مفید غذائیں ہیں۔

ڈاکٹر وں کے مطابق سخت گرمی کی وجہ سے اس وقت ڈائریا،لو،ڈی ہیڈریشن وغیرہ کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ایسے میں باہر نکلتے وقت کپڑوں سے جسم کو ڈھک کے رکھنا چاہئے زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہئے۔