دہلی پولس کے مغربی ضلع کنٹرول روم میں کورونا کی دستک سے افرا تفری، ایک شفٹ بند


دہلی پولس ہیڈکوارٹر کے ذرائع کے مطابق فی الحال دہلی پولس کمیونکیشن برانچ نے اپنے جس ضلع پولس کنٹرول روم کی ایک شفٹ بند کی ہے، وہ مغربی ضلع ہے۔
دہلی پولس میں اب تک 200 سے زیادہ کورونا متاثر افسر اور جوان مل چکے ہیں۔ کورونا انفیکشن سپاہی امت رانا کی موت سے ابھی دہلی پولس باہر بھی نہیں نکلی تھی کہ اب کورونا نے اس کے کنٹرول روم میں دستک دے دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ضلع پولس کنٹرول روم میں کورونا گھسا، دہلی پولس نے اس کنٹرول روم کی ایک شفٹ کو ہی فی الحال بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا تاکہ باقی دیگر دو شفٹوں میں ڈیوٹی کر رہے پولس اہلکاروں کو کورونا کی گرفت سے بچایا جا سکے۔

دہلی پولس ہیڈکوارٹر کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ذرائع کے مطابق فی الحال دہل پولس کمیونکیشن برانچ نے اپنے جس ضلع پولس کنٹرول روم کی ایک شفٹ بند کی ہے، وہ مغربی ضلع ہے۔ مغربی ضلع کا پولس کنٹرول روم راجوری گارڈن واقع تھانہ احاطہ میں ہے۔ یہیں ضلع ڈی سی پی کا دفتر بھی موجود ہے۔ ضلع پولس کنٹرول روم میں کورونا کے قدم پڑنے سے اب راجوری گارڈن تھانہ اور ضلع ڈی سی پی فتر  پولس اہلکاروں میں خوف پھیل گیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ نہ ضلع ڈی سی پی دفتر اور نہ ہی تھانہ اس احاطہ سے اچانک کسی دوسری جگہ پر لے جایا جا سکتا ہے۔

مغربی ضلع پولس کنٹرول روم کی ایک شفٹ کے پولس اہلکاروں کو احتیاطاً تقریباً ایک ہفتہ پہلے ہی ہوم کوارنٹائن کر دیا گیا تھا۔ اس کی نوبت تب آئی جب پہلی بار یہاں تعینات ایک جوان کورونا پازیٹو ملا۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی کے 15 اضلاع میں الگ الگ کنٹرول روم ہیں۔ ان سب کا آپریشن دہلی پولس کا کمیونکیشن برانچ کرتا ہے۔

جیسے ہی مغربی ضلع پولس کنٹرول روم میں تعینات ایک شفٹ کے ملازمین کو ہوم کوارنٹائن کیا گیا، اسی وقت ان سب کے سیمپل بھی لے لیے گئے تھے۔ اب ان سیمپل کی دھیرے دھیرے جو رپورٹس آ رہی ہیں، ان میں بیشتر پازیٹو ہی ہیں۔ ایسے میں ضلع پولس کنٹرول روم سے لے کر کمیونکیشن برانچ اور پولس ہیڈکوارٹر تک میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

جمعرات کو اس بارے میں دہلی پولس کی آپریشنز اینڈ کمیونکیشن برانچ ڈی سی پی ایس کے سنگھ نے باقاعدہ حکم بھی جاری کیا۔ کچھ خبر رساں ایجنسی کے پاس موجود اس حکم کے مطابق مغربی ضلع پولس کنٹرول روم میں اتنی بڑی تعداد میں کورونا کے پہنچنے سے یہاں کمیونکیشن برانچ کو کئی چیزیں فوراً بند کرنی پڑی ہیں۔ مثلاً ریڈیو ورکشاپ، ریڈیو اسٹور اور ای پی اے بی ایکس وغیرہ۔

اسی حکم میں آگے لکھا ہے کہ یہاں تعینات زیادہ تر پولس اسٹاف کو فوراً آئسولیشن میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ آئسولیشن مدت فی الحال 5 دن کا طے کیا گیا ہے۔ حالانکہ حکم کے مطابق ضلع پولس کنٹرول روم کا ایم سی آر بدستور کام کرتا رہے گا۔ حکم میں انچارج ارینجمنٹ سیل کو کہا گیا ہے کہ وہ فی الحال کنٹرول روم کو چلانے کے لیے 1 پلس 4 کا اسٹاف تعینات کرنے کا انتظام کریں۔

کسی طرح سے ضلع پولس کنٹرول روم کو پوری طرح سے ٹھپ ہونے سے بچانے کے لیے فی الحال ضلع ڈی سی پی دفتر سے بجلی لینے کو کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس حکم میں کنٹرول روم کو ہر شفٹ سے پہلے سینیٹائز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ حکم کے مطابق تو فی الحال مین ضلع کنٹرول روم کا پورا اسٹاف ہی 5-5 دن کے لیے ہوم کوارنٹائن رہے گا۔ ساتھ ہی اس کنٹرول روم کو غیر مستقل طور سے چلانے کے لیے بھی پاور نیٹ پر ایک ٹیبلٹ اور ایک موبائل فون مع چارجر کے کمیونکیشن برانچ ہیڈکوارٹر (حیدر پور، شالیمار باغ) سے دستیاب کرایا گیا ہے۔