لاک ڈاون میں تمام باشندوں نے علما کی رہنمائی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا :حافظ اسمعیل بیگ


بھوپال :21مئی(پریس ریلیز)
جمعیة علما ضلع بھوپال کے صدر حافظ محمد اسمعیل بیگ نے جمعیة علما مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون کی ہدایات اور رہنمائی کے تحت حکومت ہند کی جانب سے جاری لاک ڈاو¿ن میں عید اور عید کی نماز کے پیش نظر تمام مسلمانوں سے درخواست کی ہے کہ جس طرح سے پورے لاک ڈاو¿ن میں تمام مسلمانوں نے اپنے علما اور قائدین کی رہنمائی میں پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے اور کورونا وائرس کے چلتے حکومت ہند کے لاک ڈاو¿ن میں بھر پور حکومت کا ساتھ دیا ہے یہاں تک کہ رمضان المبارک جیسا رحمتوں برکتوں اور عبادتوں سے بھر پور مہینہ بھی اپنے قائدین کی ہدایات کے مطابق گزارے ہیں جو مہینہ اب اپنے آخری مرحلہ میں ہے اور عید الفطر پیش نظر ہے۔اس موقعہ پر بھی جذبات میں بہ کر خدارا ایسا قدم ہرگز نہ اٹھا لیں جو ہمارے قائدین کی ہدایات کے خلاف ہو اور پوری مسلم قوم کو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑے۔ لہذا اس حساس موقعہ پر قدم بہ قدم اپنے رہنماو¿ں کی رہنمائی میں عید اور نماز عید کا مرحلہ طے کرنا ہے۔ ضلع صدر نے مزید فرمایا کہ عید کے موقعہ پر ہم سب خریداری کرتے ہیں اور اسی طرح اپنے صدقات و فطرات اور باہمی تعاون کے ذریعہ اپنے مجبور و کمزور بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کر لیتے ہیں جس سے عید کی خوشیوں میں چار چاند لگ جاتے ہیں ۔جو اسلام میںہر خوشی منانے کی اہم تعلیم ہے کہ اپنی خوشیوں میں سب کو شامل کرنا ہی انسانیت اور بھائی چارگی ہے۔لیکن اس مرتبہ رمضان کی طرح عید بھی لاک ڈاو¿ن کے سایہ تلے آئی ہے جسکو رمضان ہی کی طرح گزارنا ہے۔چنانچہ سب سے پہلے تو یہ کرنا ہے کہ ہمیں عید کے لئے کوئی خریداری نہیں کرنا ہے بلکہ اس رقم سے ان لوگوں کی امداد کرنا ہے جو لاک ڈاو¿ن کے سبب کسی نہ کسی درجہ میں حالت افلاس میں آ گئے ہیں اور زبان حال سے اپنے درد و درماں کا اپنی طبعی شرافت و غیرت کی وجہ سے اظہار نہیں کر پاتے ہیں۔ انکے گھروں میں خوشیوں کے دیے روشن کرنا ہی اصل عید کی خوشی اور مزہ ہے۔بازاروں میں عید کی خریداری کے نام پر اپنا قیمتی اثاثہ ضائع کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ غریبوں محتاجوں اور مسکینوں اور حالات کے سبب مجبوروں کے چہرے روشن کر دیے جائیں اور اللہ کے کنبہ کی خدمت کرکے عید کی اصل خوشیوں کو دوچند کیا جائے۔نیز نماز عید کے تعلق سے جو ہمارے ذمہ داران علما کرام اور مفتیان عظام اور خود ہمارے شہر قاضی بھوپال قاضی سید مشتاق علی ندوی کی جو ہدایات ہیں انکو پیش نظر رکھنا ہے اس طور پر کہ جن علاقوں میں عید کی نماز ہوتی ہے وہاں جن گھروں میں سہولت سے نماز عید ادا کی جا سکتی ہے وہ گھر والے گھر سے باہری شخص حتی کہ پڑوسی کو بھی بغیر امام کے علاوہ تین لوگوں کی موجودگی کو لازم کرتے ہوئے لاک ڈاو¿ن کی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے نماز عید ادا کرلیں اور خطبہ عید جو کہ مسنون ہے اور ہر جگہ اختصار کے ساتھ دستیاب ہے دیکھ کر پڑھ لیں۔اور جہاں آسانی نہ ہو پائے اور اسی طرح جن علاقوں میں نماز عید نہیں ہوتی ہوایسے لوگ اپنے گھروں میں ہی دو یا چار رکعت چاشت کے وقت میں چاشت کی نماز پڑھ لیں یقینا انکو عید کی ہی نماز کا ثواب ملیگا۔ کیونکہ جس کو کسی عمل سے روک دیا جائے اور وہ شخص اس عمل کو انجام دینا چاہتا ہے اس شخص کو اس عمل کا بھر پور ثواب ملتا ہے۔ لہذا مایوس نہ ہوں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ ضلع صدر حافظ محمد اسمعیل بیگ جو کہ پورے لاک ڈاو¿ن میں مستقل اپنی ضلعی ٹیم کے ساتھ بستی بستی کا دورہ کرکے ضرورت مندوں کو راشن کٹس اور نقدی رقم مہیا کروا رہے ہیں جمعیت علماءضلع بھوپال نے یہ خدمت خلق اپنے دم پر کی ہے صرف اور یہ بات صاف کر دی جاتی ہے کہ کسی بھی شخص یا تنظیم یا جمعیت علماءمدھیہ پردیش یا جمعیت علماءہند کی طرف سے جمعیت علماءضلع بھوپال کو کوئی مدد نہیں ملی ہے اور آگے بھی انشاءاللہ یہ خدمت جاری رہےگی اور ساتھ ہی لاک ڈاو¿ن کے سبب پھنسے ہوئے اسٹوڈنٹس، مدارس کے طلبہ، جماعت کے ساتھیوں، مزدوروں اور دیگر لوگوں کو اپنی دن رات کی محنتوں اور پرشاشن کی مدد سے بخیر و عافیت انکے گھر پہنچوا چکے ہیں اور موجودہ وقت میں بھی جو مزدور اپنے وطن اور زندگی کی آس میں پیدل اپنے اپنے گھروں کو رواں دواں ہیں انکے لئے بھی ہر ممکن کوشش کرکے کھانے اور سواری کا انتظام کر کے انکے گھروں تک سلامتی کے ساتھ پہنچنے میں فی سبیل اللہ خدمات انجام دے رہے ہیں ۔آپ تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے مشکل وقت میں آپ سب آگے آئیں اور اسلام کا پیغام یکجہتی اور ہمدردی،مخلوق خدا پر رحم اور درس اخوت و بھائی چارگی کوعام کریں۔