وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور دیگر 8 ارکان نے مجلس قانون ساز کی رکنیت کا حلف لیا

ممبئی: مہاراشٹرا مجلس قانون ساز کی رکنیت کے لیے نو منتخب وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور دیگر آٹھ ارکان نے مجلس قانون ساز کی رکنیت کا حلف لیا۔ انہیں چیئرمین رام راجے نمبالکر نے ودھان بھون میں حلف دلایا۔ یہ تمام 9 ارکان 14 مئی کو ریاستی مجلس قانون ساز کے لیے بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے۔ کیونکہ 9 نشستوں کے لئے صرف 9 نامزدگیاں ہی داخل کی گئیں تھیں۔

14 مئی کو ریاستی مجلس قانون ساز کے لیے بلامقابلہ منتخب ہونے والوں میں مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے علاوہ کونسل کی نائب چیئرپرسن نیلم گورھے (شیو سینا) کے علاوہ ، بی جے پی کے چار امیدوار رنجیت سنگھ موہیت پاٹل ، گوپی چند پڈالکر ، پروین دتکی اور رمیش کراڈ ، راشڑوادی کانگریس کے ششی کانت شنڈے اور امول مٹکاری اور کانگریس کے راجیش راٹھود بھی بلا مقابلہ منتخب قرار دیئے گئے تھے۔

نامزدگی کی واپسی کی آخری تاریخ ختم ہونے کے بعد جمعرات کے روز باضابطہ طور پر ان کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور شیو سینا کے قائد ٹھاکرے خاندان کے پہلے شخص ہیں جو بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ اس انتخاب کے ساتھ ہی 59 سالہ ٹھاکرے، جو شیوسینا کے صدر بھی ہیں، نے بطور رکن مجلس قانون ساز کی حیثیت سے ایک نیا آغاز کیا ہے۔

ٹھاکرے جنھوں نے 28 نومبر کو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا تھا وہ کسی بھی ایوان کے رکن نہیں تھے اور اقتدار پر باقی رہنے کے لیے انھیں 27 مئی تک مجلس قانون ساز کا رکن ہونا ضروری تھا۔ واضح رہے ریاست کے ایوان بالا میں 9 خالی نشستیں، قانون ساز اسمبلی کے 288 ممبران پر مشتمل انتخابی کالج کے ذریعے رائے شماری سے پُر کی جاتی ہیں۔