جماعت سے وابستہ غیرملکی افراد کوجیل بھیجنا ملک کی رسوائی کاسبب بن سکتاہے: حاجی محمد ہارون


بھوپال :17مئی(نیانظریہ بیورو)
جمعیت علماءمدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون (سپریم کورٹ کے وکیل) بھی ہیں انہوں نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت اور دوسری صوبائی حکومتوں سمیت حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ تبلیغی جماعت کے لوگوں پر مقدمہ لگا کر جیلوں اور خاص کر بھوپال کی جیل میں ڈالا گیا ہے ۔سرکار کے اس کام سے پوری دنیا میں ہمارے پیارے ملک بھارت کی شبیہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہمارے ملک میں آنے والے تمام مذاہب کے لوگ ٹورسٹ ویزا پرہی ہیں بھارت آتے ہیں اوریہ سلسلہ برسوں سے چلاآرہاہے۔اس کے علاوہ ٹورسٹ ویزے کے ساتھ ہی مختلف مذہبی پروگراموں میں بھی ہمیشہ شامل ہوتے رہے ہیں جن میں ہندو، بودھ ، جین، عیسائی اور دوسرے مذہب کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ہمارے ملک میں مختلف مذاہب کے کے ماننے والوں کے مذہبی مقام بھی موجود ہیں۔ جن میں گرودوارے، چرچ، مندر شامل ہیں ۔ہندو دھرم کے بھی مختلف مذہبی مقامات بھارت میں موجود ہیں۔ جس میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ غیرممالک سے آتے ہےں۔ ہر بارہ سالوں میں ہونے والے سنہستھ میلے میں بھی لاکھوں لوگ بھارت آکر شامل ھوتے رہتے ہیں خاص کر دلی میں موجود اسکان مندر میں ہر سال لاکھوں لوگ غیرممالک سے آتے ہیںا وراپنے مذہبی عقیدے کے مطابق شری کرشن کی پوجا کرتے ہیں آج بھی لاکھوں عقیدت مند بھارت آئے ہوئے ہیں اور ملک کی مختلف عبادت گاہوں میں موجود ہیں۔ لوگ اپنے خاندانی پروگراموں میں بھی بھارت آتے ہیں اور مختلف مذہبی پروگراموں میں شامل ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں جن مختلف جماعتوں کی وجہ سے ملک کا نام روشن ہوا ہے اس میں تبلیغی جماعت بھی شامل ہے۔ تبلیغی جماعت کا عالمی مرکز ہندوستان میں ہونا فخر کی بات ہے۔ بھارت میں تبلیغی جماعت کے اجتماع ہوتے رہتے ہیں اور جس میں پوری دنیا کے لوگ شرکت کرتے ہیں ان کا مقصد اپنی اصلاح کرنا ہوتا ہے۔ اجتماع میں شامل ہونے والے لوگ بہترین شہری ثابت ہوتے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں کے لئے مفید بھی ثابت ہوتے ہیں ۔ہندوستان میں ہونے والے ان اجتماع میں سبھی سرکاروں کا بھرپور تعاون ہوتا ہے۔جمعیت کے ریاستی حاحی ہارون نے بروز اتوار این این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اچانک لاک ڈاو¿ن ہونے کی وجہ سے غیرممالک سے آئے لوگ پھنس گئے ،جن میں زیادہ تر لوگوں کی تعداد اورسیز انڈین کی ہے ایسے لوگوں کے خلاف مقدمہ بنا کر جیلوں میں ڈال دینا ملک کے لیے رسوائی کا سبب ہے۔ اس لئے ہماراحکومت ہندسے اورریاستی حکومت سے فوری مطالبہ ہے کی بلاتاخیر تبلیغی جماعت کے لوگوں پر لگائے گئے مقدمے واپس لئے جائیں اور انہیں باعزت طریقے سے ان کے وطن واپس بھیجا جائے اور آئندہ ملک میں آنے والے سبھی مذاہب کے لوگوں کے لیے یکساں قانون بنایا جائے ۔