دہلی-یو پی سرحد پر مہاجر مزدوروں کا ہجوم، سی ایم یوگی کے حکم پر نہیں مل رہا داخلہ

کورونا وائرس کی وجہ سے پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن جاری ہے، مہاجر مزدورں کا پیدل اپنے اپنے گھروں کی جانب سفر بھی جاری ہے، اس دوران کئی جگہ ان مزدورں کے ساتھ حادثات بھی رونما ہوئے ہیں، جن ،ہں کئی مہاجر مزدورں کو اپنی جانیں بھی گنوانی پڑیں ہیں، اس کے باوجود ان مہاجر مزدورں کا اپنے گھروں کی جانب جانے کا سفر جاری ہے۔

ادھر آج، دہلی کے غازی پور میں دہلی-یوپی سرحد پر مہاجر مزدوروں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی ہے، بتایا جارہا ہے کہ یہ مزدور اپنے گھروں کے لئے پیدل جارہے تھے، جیسے ہی انہوں نے اترپردیش کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس انتظامیہ نے انہیں روک دیا۔ گزشتہ روز اورایا حادثہ رونما ہوا تھا اس کے باوجود اتنی کثیر تعداد میں مہاجر مزدور اپنے گھروں کو جاتے ہوئے دیکھے گئے۔

وہیں موقع پر موجود پولیس اہلکار پرچند تیاگی کا کہنا ہے کہ ان مہاجر مزدور کو اس وقت تک اترپردیش سرحد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جب تک ان کے پاس حکومت کی جانب سے جاری انٹری پاس نہیں ہوگا۔

گزشتہ روز ہفتہ کو یوپی کے اوریا ضلع میں رونما ہوئے ایک خوفناک سڑک حادثے کے بعد سی ایم یوگی نے تمام عہدیداروں سے مہاجر مزدوروں کے پیسل چلنے پر پابندی لگانے کو کہا تھا۔ پولیس افسران کو جاری ایک حکم میں سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے واضح طور پر کہا تھا کہ کسی بھی مہاجر شہریوں کو پیدل یا غیر محفوظ گاڑیوں پر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

دوسری طرف اتر پردیش بارڈر میں داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے دہلی-یوپی سرحد پر مہاجر مزدوروں کا ہجوم جمع ہوگیا ہے۔ یوپی سرحد میں داخلہ نہ ملنے سے ناراض مزدوروں نے بار بار ٹریفک کو روکنے کی کوشش کی۔ حالانکہ، ٹریفک پولیس نے بڑی مشقت کے بعد ان مہاجر مزدورں کو سڑک سے ہٹایا، جس کے بعد ٹریفک نظام بحال ہو سکا۔

اس سے قبل ہفتے کے روز اتر پردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم اونیش کمار نے دعوی کیا تھا کہ مہاجر مزدورں اور کامگاروں کے لئے ہر سرحدی اضلاع میں دو دو سو بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ دیکھنا ہوگا کہ ریاستی حکومت دہلی-یوپی بارڈر پر جمع مہاجر مزدوروں کو ان کے گھروں تک کیسے بھیجتی ہے۔ خبر لکھے جانے تک سبھی مزدور اور کامگار سرحد پر ہی بیٹھ گئے ہیں اور ان کا کہنا کہ اب رات یہیں گزارے گی۔