نثاراحمدکی وداعی کے ساتھ ستیش کوملی وقف بورڈ کی ذمہ داری
بھوپال:یکم اپریل(نیانظریہ بیورو)
نومنتخب حکومت کے دوران جاری انتظامی ردوبدل کے درمیان ایم پی وقف بورڈ کے انتظامات میںبھی تبدیلی آناشروع ہوگئے ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیوں نے پیر کو اور زیادہ شدت اختیار کرلی۔انتظامیہ نے یہاں ایڈمنسٹریشن کے طورپرتعینات ریٹائرڈ آئی اے ایس نثار احمد کو بے دخل کردیا ہے۔ ان کی جگہ وقف بورڈ کی ذمہ داری آئی اے ایس آفیسر ستیش کمار ایس کو سونپی گئی ہے۔ نئے ایڈمنسٹریٹر نے بدھ کے روز وقف بورڈدفتر پہنچ کر چارج بھی سنبھال لیا ہے۔سال 2018 میں نثار احمد کو وقف بورڈ میں تین ماہ کے لئے ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔تاکہ اس سے وقف بورڈ کی تشکیل کا عمل اس عرصے کے دوران مکمل ہوسکے۔ لیکن تین ماہ یا بورڈ کی تشکیل تک گائڈلائن برقرار رکھنے کے بعد ، نثار احمد بورڈ کی تشکیل سے کتراتے رہے۔ بلکہ اس دوران انہوں نے پورے وقت اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے ، ریاست بھر میں وقف کمیٹیوں کی تشکیل جاری رکھی۔ انہوں نے کئی اضلاع کی کمیٹیاں بھی تشکیل دیں۔ اس کے علاوہ گذشتہ بورڈ میں موجود افسران سمیت افسروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں بھی انہوں نے اپناوقت گزارا ۔
حکومت بدلتے ہی گھنٹی بجنے لگی تھی:
ریاست میں بی جے پی حکومت کے قبضے کے ساتھ اس بحث کو تیز کیا گیا کہ جلد ہی وقف بورڈ کا نظام بدلا جائے گا۔ ادھربی جے پی سے وابستہ مسلم لیڈران (جن کونثاراحمد کی طرف سے تشددکی زدمیں لیاگیاتھا) نے بھی اس عمل کو مکمل کرنا شروع کیا۔ جس کے بعد پیر کو نثار احمد کی جگہ آئی اے ایس آفیسر ستیش کمار ایس کو مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز وقف بورڈ آفس پہنچ کر چارج بھی سنبھال لیا ہے۔
ایک ہفتے کے کام کا کیا ہوگا:
وقف بورڈ کی جانب سے نثار احمد کی معزولی کے بعد اب اس بارے میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے کہ بورڈ کی جانب سے پچھلے 15 دنوں میں ہونے والے کام کامعائنہ کیاجائیگا۔ وجہ یہ ہے کہ نثار احمد نے اپنے دور میں 16 مارچ کو ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس چھ رکنی کمیٹی میں خود نثار بھی شامل تھے۔ نیز انہیں جاری کردہ حکم کے مطابق ، ان کی خدمت صرف بورڈ کے تشکیل تک ہی تھی۔ اس صورتحال میں وہ 16 مارچ سے بطور ایڈمنسٹریٹر کام کر رہے ہیں۔ اس دوران ، وہ مستقل طور پر مطلوبہ فائلوں پر دستخط کرتے رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ لاک ڈاو¿ن کی صورتحال کے باوجود بھی ، فائلیں روزانہ گھر تک پہنچتی رہیں۔ یہ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں کہ ایک ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے نثار احمد کے کام کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟
مسلم آفیسر کی بات:
اس سے پہلے بھی غیر مسلم افسران وقف بورڈ میں ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ بی آر وشوکرما اور اکشے کمار کو یہاں تعینات کیا گیا ہے۔ لیکن ستیش کمار ایس کی تقرری کے حوالے سے وقف ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ بورڈ میں صرف مسلم افسران کی تقرری کی جاسکتی ہے۔ اس کے لئے انتظامیہ میں موجود مسلم عہدیداروں کی فہرست بھی آگے بڑھائی جارہیہے۔