ضمنی انتخابات میں منوج چودھری کو بی جے پی لیڈران کی ناراضگی پڑے گی بھاری


دیواس15مئی (نیا نظریہ بیورو) ضمنی انتخابات کی آہٹ اب آہستہ – آہستہ سنائی پڑنے لگی ہے۔مدھیہ پردیش کے 24 اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونے ہیں جس میں سے زیادہ تر وہ اسمبلی حلقہ ہیں جہاں کچھ کانگریسیوں نے وبھیشن کاکردارادا کرتے ہوئے کانگریس حکومت کو پیٹھ دکھاتے ہوئے بی جے پی کا دامن تھام لیا تھا اور کانگریس کی حکومت گر گئی تھی ۔
صوبہ کے سابق وزیر جناب جیتو پٹواری کے خاص سپہ سالار ہاٹ پپلیا اسمبلی حلقہ سے جیت درج کرنے کے بعد دیواس ضلع میں اپنی طاقت دکھانے میں کامیاب ہوئے نوجوان لیڈر منوج چو دھری
مطلب پرستو ںکی فہرست میں شامل ہوتے ہوئے کچھ ماہ قبل اپنے قریبی وزیر جیتو پٹواری کو بھی آنکھ دکھاتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ بی جے پی میں جانے کا سبب منوج چودھری نے سابق وزیر برائے پبلک ورکس جناب سجن سنگھ ورما کو بتاتے ہوئے کہا تھا کہ میرے حلقہ میں نےوری سے چاپڑا کی سڑک اور سرولیا کی سڑک انہوں نے نہیں بننے دی اس لئے میں پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ منوج چو دھری کی جانب سے لگائے گئے الزام سے پہلے وزیر سجن سنگھ ورما بھی خاصے ناراض ہیں لہٰذا اب وہ منوج چو دھر ی کو انتخا ب میں شکست دینے کے لئے حکمت عملی بنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ کسانوں کے مقدمے واپس لینے کے مسئلے پر بھی منوج چودھری نے کمل ناتھ حکومت کی برائی میڈیا والوں سے کی تھی اس کی وجہ سے سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے اپنے خاص سابق وزیر جناب سجن سنگھ ورما کو اسمبلی کا انچارج بنا کر کسی بھی قیمت پر منوج چودھری کو شکست دینے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ منوج چودھری نے عوام سے جھوٹ بول کر اپنا استعفیٰ دیا تھا جبکہ سب جانتے ہیں کہ مہاراجہ جیوتی رادتیہ سندھیا کی وجہ سے ان کے تمام حامی 22 رکن اسمبلی نے اپنا اجتماعی استعفیٰ دیا تھا ۔ ہاٹ پپلیا حلقہ کے لوگوں سے بات کرنے پر کہا کہ منوج چودھری کو ہم نے کانگریسی ہونے کے ناطے اکثریت سے جتا کر اسمبلی میں بھیجا تھا مگر انہوں نے ہمار ی توہین کی ہے۔ سب سے بڑی بات ان کے سیاسی گرو سابق وزیر جیتو پٹواری کی بھی انہوں نے بات نہ رکھتے ہوئے انہیں بھی ٹھینگا دکھاتے ہوئے بی جے پی کا دامن تھاما اور انہیں بھی گھر کا راستہ د کھا دیا۔ منوج چو دھری کے اس رویے سے ان کے سیاسی دشمنوں کو موقع ملا اور انہوں نے سابق وزیر اور ہاٹ پپلیا کے انچارج جناب سجن سنگھ ورما اور جیتو پٹواری کے ساتھ مل کر منوج چو دھری کی سیاست ختم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ایک دفع باگلی و دو دفع ہاٹ پپلیا اسمبلی حلقہ سے انتخابات جیتے سابق وزیر دیپک جوشی پچھلا انتخابات منوج چو دھری سے ہار گئے تھے تبھی سے انہیں ایک غصہ تھا کہ مستقبل میں انتخابات میں منوج چودھری کو شکست دے کر اپنا بدلہ پورا کروں گا مگر اب منوج چودھری بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں اور مہاراجہ سندھیا دھڑے سے منوج چودھری کو ٹکٹ ملنا تقریبا ًطے مانا جا رہا ہے ایسے میں دیپک جوشی کا منوج چو دھری کو انتخابات میں شکست دینے کا خواب فی الحال مکمل نہیں ہو پائے گا کیونکہ ابھی دونوں آمنے سامنے انتخابات نہیں لڑیں گے دونوں ایک ہی پارٹی میں ہیں۔دیپک جوشی بھی ہاٹ پپلیا حلقہ سے ٹکٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں اگر پارٹی انہیں ٹکٹ نہ دے کر منوج چودھری کو ٹکٹ دے دیتی ہے تو پھر دیپک جوشی خاموش نہیں بیٹھیں گے وہ بغاوتی تیور د کھا سکتے ہیں اس کا آغاز بھی انہوں نے کر دیا ہے۔ ان کی ناراضگی منوج چو دھری پر بھاری پڑ سکتی ہے۔