مہاجر مزدوروں کی اموات، مداخلت سے سپریم کورٹ کا انکار

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے لاک ڈاؤن کے پیش نظر پیدل اپنے آبائی گھر کے لئے نکلنے والے مزدوروں کی ریل اور سڑک حادثے میں ہو رہی اموات کے معاملے میں مداخلت کرنے سے جمعہ کو انکار کر دیا۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کی گئی سماعت کے دوران وکیل اکھل آلوک شری واستو کی عذرداری کو خارج کر دیا۔
سمات کے دوران سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ کیا پیدل چل کر جا رہے مزدوروں کو کسی طرح روکا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں مرکزی حکومت کی طرف سے جواب دیا گیا کہ ریاستی حکومتیں ٹرانسپورٹ کا انتظام کر رہی ہیں۔ تاہم کئی بار لوگ غصہ میں آ رہے ہیں، وہ انتظار نہیں کر رہے اور پیدل ہی کوچ کر رہے ہیں۔ حکومت ایسے لوگوں سے صرف اپیل کر سکتی ہے کہ وہ پیدل نہ چلیں بلکہ ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔ لیکن کوئی اگر نہیں مان رہا تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ ان پر طاقت کا استعمال نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اس پر لوگ رد عمل ظاہر کریں گے۔

جسٹس راؤ نے کہا کہ ’’وہ (مہاجر مزدور) ریل کی پٹریوں پر سو جائیں، تو کوئی کیسے روک سکتا ہے۔‘‘ سماعت کی ابتدا میں شری واستو نے مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں ریل کی پٹریوں میں سوئے مہاجر مزدوروں کی کٹ کر ہوئی موت کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش کے گنا اور اترپردیش کے سہارنپور میں سڑک حادثوں میں مہاجر مزدوروں کی موت کا بھی معاملہ اٹھایا۔

اس پر جسٹس کول نے کہا کہ ’’آپ کی اطلاع صرف اخبارات کی خبروں پر مبنی ہے۔ آپ یہ کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ہم کوئی حکم جاری کریں گے۔ اس معاملہ میں حکومتوں کو کام کرنے دیا جائے اور ایکشن لینے دیا جائے۔ لوگ سڑکوں پر جا رہے ہیں، پیدل چل رہے ہیں۔ نہیں رُک رہے تو اس میں ہم کیا تعاون کر سکتے ہیں؟‘‘