’کھانا تو مل جائے گا صاحب، ایک پرانی چپل دے دو‘، مہاجر مزدوروں کی جذباتی اپیل

“کھانا تو مل جائے گا، صاحب ایک پرانی چپل دے دو۔” یہ جذباتی اپیل ہے ترلوکی کمار کی جو اپنے پیروں پر پھوڑے اور زخم کو دکھاتے ہوئے چپل مانگ رہا ہے۔ ترلوکی ان ہزاروں لوگوں میں سےایک ہے جو گجرات اور دیگر ریاستوں سے اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ گورکھپور کے پپرائچ کا باشندہ ترلوکی نے بتایا کہ وہ سورت میں ایک کپڑا مل میں کام کرتا تھا اور ٹرین سے نہیں جا پانے کے بعد اس نے پیدل ہی گھر کی طرف نکلنے کا فیصلہ کیا۔
ترلوکی کا کہنا ہے کہ “میں نے خود کو مزدور ٹرین کے لیے رجسٹرڈ کیا اور ایک ہفتہ تک انتظار کیا۔ کسی نے فون نہیں کیا اور آخر کار ہم نے گھرپیدل ہی واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ کسی انجان جگہ پر مرنے سے تو اچھا ہے کہ گھر پر مروں۔” اس نے بتایا کہ اتر پردیش کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے ہی اس کی چپلوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ “میں ننگے پیر چل رہا ہوں اور میرے پھوڑے سے خون بھی بہہ رہا ہے۔ مجھے اب بھی 300 کلو میٹر سے زیادہ چلنا ہے۔” گروپ کے ایک دیگر مہاجر مزدور ٹھاکر نے کہا کہ لوگ انھیں راستے میں کھانا اور پانی کی پیشکش کر رہے ہیں، لیکن ان کے لیے جوتے اور چپل ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔
ٹھاکر بتاتا ہے کہ “میرے جوتے کا سول نکل رہا تھا اس لیے میں نے اس کے اوپر کپڑے کا ایک ٹکڑا باندھ دیا ہے۔ ہم ایک یا دو دن کھانا کے بغیر چل سکتے ہیں، لیکن ایسی حالت میں بغیر جوتوں کے چلنا ممکن نہیں ہے۔” ترلوکی اور ٹھاکر دونوں نے ہی پیسے لینے سے منع کر دیا اور کہا کہ ہم چپل کہاں سے خریدیں گے؟
ان مہاجروں کی حالت زار دیکھتے ہوئے جن میں سے کئی ننگے پیر بھی چل رہے تھے، لکھنؤ کے باہر علاقے اراٹیا میں ایک جوتے کی دکان کے مالک نے 60 روپے فی جوڑی کی قیمت پر چپل بیچنے کا فیصلہ کیا۔ سینئر شہریوں کے ایک گروپ نے اپنا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس خدمت کو مشتہر نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ایک مقامی دکان سے چپلیں خریدیں اور انھیں لکھنؤ-بارہ بنکی سڑک پر مہاجر مزدوروں کو تقسیم کر رہے ہیں۔ اس درمیان کاروباری اور سماجی کارکن نوین تیواری جو کہ لکھنؤ-فیض آباد شاہراہ پر مہاجرین کو کھانا و پانی تقسیم کرتے رہے ہیں، انھوں نے بھی تھوک میں کئی چپلیں خرید لی ہیں اور کہا ہے کہ جمعہ سے اس کی تقسیم کا عمل شروع ہو جائے گا۔