بھوپال بائی پاس سے گزرنے والے مزدورں کےلئے سماجی تنظیمیں بنیں بڑاسہارا


بھوپال:14مئی(نیانظریہ بیورو)
کبھی خاندان کی پرورش کے لئے تین پہیا آٹو خریدا تھا ، اب یہی آٹو فیملی کے لوگوں کو لاد کر بے خوف گھرکی طرفچلے جانے کی سہولت بن گئی ہے۔ جس موٹر سائیکل اور موپیڈ کا استعمال دفتر یا دکان جانے کے لئے کرتے تھے۔ اب وہ کنبے کو سمیٹے لمبی سڑک ناپ نے کا سامان بنا ہوا ہے۔ بھیڑ ،بکریوںیا مرغیوں کو ڈھونے کے لئے لوڈنگ آٹو میں ڈبل پارٹیشن کرتے دیکھا ہوگا، لیکن اس طرح کی تقسیم کے ساتھ چھوٹے سے آٹو میں پندرہ سے بیس لوگوں کی تعداد کبھی کسی نے نہیں دیکھی ہوگی۔ کسی نے ہاتھ ٹھیلے کو اپنی سواری بنا کر فیملی کا شرون کمار بن گیا تو کسی نے سائیکل کو ہی اپنی سواری بنا لیا ہے۔ مجبوری یہاں تک ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے قدموں کو ہی اپنا سہارا بنانے کی ضد ٹھان لی ہے۔ چل پڑا ہے سفر پر ،راستے کی مشکلیں سوار ہیں، کھانے پینے سے لے کر رات گذارنے تک کا آسران مزدوروں کو نہیں ہےں، امید بس ایک ہے کہ اپنی آبائی زمین پر پہنچ کر شاید کچھ سکون مل جائے۔
کوئی اڑیسہ سے تو کوئی بہار سے ، کوئی راجستھان یا گجرات سے ،نظروں میں ایک خواب لئے خوابوں کا شہر ممبئی اور مہاراشٹر کے بڑے شہروں کی طرف بڑھا تھا۔ ارادہ ایک ہی تھا ، مقصدصرف ایک ہی تھا کہ صبح ،شام محنت کریںگے ، چار پیسے کمائیںگے، دو پیسے خود پر خرچ کریں گے باقی خاندان کی پرورش کے لئے گاﺅں بھیج دیںگے۔ بہت کچھ ٹھیک ہو بھی گیا تھا،لیکن ایک اندیکھا وائرس نے ایسا تہلکہ مچایا کہ غریب مزدور،روز کماکر کھانے والوں کے سامنے مشکلوں کا پہاڑ کھڑا کردیا۔ سڑک پر نکلیںگے تو کورونا مار ڈالے گا، گھرمیں رہیں گے تو بھوک زندگی کو ہرادے گی۔ فیصلہ ہوا گھر واپسی کا اور قدم چل پڑے ان گلیوں، بستیوں ،گاﺅں ،کھیت اور سڑکوں کی طرف ،جنہیں برسوں پہلے کامیابی اور کام پانے کی چاہ میں درکنار کر چکے تھے۔
مشکل بڑی ،حوصلہ اس سے بھی بڑا:مہاراشٹر کے چکاچوند بھرے شہروں سے ارادہ کراپنے گھر کی طرف اترپردیش جانے والے ہزاروں غریبوں کا راستہ بھوپال سے ہوکر گذرتا ہے۔ پھندا جوڑ اور مبارک پور پر تعینات مددگاروں کو دیکھ دو گھڑی سستانے کے لئے کم وبیش سبھی راہ گیروں کے قدم لرکھڑا جاتے ہیں۔ پانی ،چائے،ناشتہ، کھانایا جواب دے چکی پیروں کی چپلوں کی ان کی ضرورت یہاں پوری ہوتی دکھائی دیتی نظر آتی ہے۔ راستے کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ان راہ گیروں کے منھ سے بے ساختہ چیخیںنکل جاتی ہےں۔ لیکن اپنی زمین کی طرف بڑھنے کی امید بھی نظر آتی ہے۔ گاﺅں جاکر نئی دنیا،نیا نظارہ اپنی ان کی فکر میں نہیں ہے، فی الحال ان کا مقصد مہاماری سے بچنے ،اپنے خاندان کے درمیان پہنچنے اور پھر ایک نئی دنیابسانے کا ہے۔
مددگاروں نے سنبھالا محاذ :وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے اپنی ریاست میںآنے والے مزدوروں کو بہتر سہولیات فراہم کرانے کا یقین دلایا ہے۔ ساتھ ہی ریاست کی سرحدوں سے گذررہے لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کا انتظام بھی کئے ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر سے لے کر اتر پردیش کی سرحد کے درمیان پڑنے والے تمام اضلاع میں ان کے لئے کیمپ لگا کر ضروری سہولتیں فراہم کرائی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد سماجی تنظیمیں اور مددگاروں نے بھی محاذ سنبھال لیا ہے ۔ راجدھانی بھوپال کے بائی پاس پر درجنوں لوگ شہر کی سرحد سے گذر رہے ان لوگوں کی ضرورتوں کا خیال کررہے ہیں۔ پانی ،چائے،ناشتہ سے لے کر راستے کی مشکلات کو آسان بنانے کے سامان یہاں الگ الگ لوگوں اور تنظیموں نے مہیا کررکھا ہے۔