وبائی مرض کے وقت بھوپال ممبرپارلیمنٹ لاپتہ :پی سی شرما


بھوپال:14مئی(نیانظریہ بیورو)
کورونا وبا کے دوران مدھیہ پردیش کے سابق وزیررابطہ عامہ پی سی شرما نے ریاستی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پورا ملک کورونا وائرس سے لڑ رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کی صورتحال خوفناک ہوتی جارہی ہے۔ بھوپال میں متاثرہ کورونا کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ موت کا تسلسل بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اس خوفناک صورتحال کے درمیان ، بھوپال کے رکن پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر کہیں نظر نہیں آرہی ہیں۔
کورونا اور لاک ڈاو¿ن کے آغاز سے ہی بھوپال کے رکن پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر کی عدم موجودگی کی وجہ سے بہت سارے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جہاں پرگیہ ٹھاکر کی عدم موجودگی پر بی جے پی نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ وہیں دوسری طرف بھوپال کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر پرگیہ ٹھاکر کے لاپتہ ہونے کااشہتاروائرل کرناشروع کردیاہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس لیڈران بھی پرگیہ ٹھاکر کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
سابق وزیرپی سی شرما نے کہا کہ سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ ، جو پرگیہ ٹھاکر سے الیکشن ہار گئے تھے ، بھوپال میں لوگوں کی مدد کے لئے مسلسل مہم چلا رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلی کمل ناتھ کے ساتھ جہاں انہوں نے بھوپال میں مختلف علاقوں میں 13 کچن لگائے ہیں۔ اسی کے ساتھ لوگ وطن واپسی اور ہر طرح کی مدد کے لئے ای پاس بھی بنانے کا کام کر رہے ہیں۔
صرف یہی نہیں ، پی سی شرما نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ عوام کے لئے مرکزی حکومت کا نمائندہ ہے اور اگر وہ آج موجود ہوتے تو عوام کو مزید مدد ملتی۔رکن پارلیمنٹ پرگیہ ٹھاکر مرکزی حکومت سے زیادہ سے زیادہ مدد لے سکتی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سارے لوگ بھوپال میں کورونا وائرس کی وجہ سے دنیاسے چل بسے ہیں۔
پی سی شرما نے کہا کہ لوگ پریشانی میں ہیں ، مزدوراپنے گھروں کی طرف پیدل ہی نکل پڑے ہیں ، ان مزدوروں کے پیروں میں سینڈل نہیں ہے ، کھانے کوکچھ بھی ساتھ نہیں ہے ، پینے کے لئے پانی نہیں ہے۔ گھر پہنچنے کے لئے کوئی گاڑی نہیں ہے۔ اس صورتحال میں ،بھوپال ممبر پارلیمنٹ لوگوں کی مدد کرسکتی تھیں ، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ بھوپال کی عوام نے ایک ایسے نمائندے کا انتخاب کیاہے جوان کی مصیبت میں کام نہیں آسکتیں۔