لاک ڈاون میں دووقت کی روٹی کےلئے بھٹک رہے ہیں ضرورتمند


بھوپال:14مئی(نیانظریہ بیورو)
ملک میںکورونا وبا کی وجہ سے لاک ڈاو¿ن نافذ ہے،اس دوران لوگوں کی جان بچانے کے لئےطرح طرح کے اقدامات کئے جارہے ہیں ، جسے پورے ملک میں بھی نافذ کیا گیا تھا۔ لیکن اس لاک ڈاو¿ن نے لوگوں کے منھ سے نوالہ چھین لیاہے۔ خوراک کے فقدان کی وجہ سے ملک بھر میں تمام مزدور ہزاروں میل پیدل سفر کرنے کے بعد اپنے گھروں کو آرہے ہیں۔ یہ ایک ایسا زلزلہ ہے ، جس کے لئے انسان دردر بھٹکنے پرمجبور ہے۔ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے تمام کاروبار بند کردیئے گئے ہیں ، جس کی وجہ سے مزدور طبقہ مالی بحران سے پریشان ہے۔ ان کی حالت جانتے ہوئے میڈیاکی مختلف ٹیمیں ریاست کی راجدھانی بھوپال کے مختلفجھگی بستی علاقوں میں پہنچی اور ان کی حالت جاننے کی کوشش کی۔
راجدھانی کے اوم نگر بستی میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یا تو حکومت کو کھانے پینے کا انتظام کرنا چاہئے ورنہ لاک ڈاو¿ن کھول دیناچاہئے۔ لاک ڈاو¿ن سے پہلے روزانہ ، ہم 200 سے 300 روپے گھرگھرجاکرکماتے تھے ۔ لیکن اب لاک ڈاو¿ن کو دو ماہ ہوگئے ہیں اور بچے گھر میں بھوکے سو رہے ہیں۔ اس دوران ، اوم نگر کے علاقے میں رہنے والی پھلواتی کا کہنا ہے کہ اس کے گھر میں 7 افراد رہتے ہیں ، اس کا شوہر اور بیٹا ٹیلر کا کام کرتے تھے ، جس کی کمائی سے خاندان چلتاتھا۔ لیکن لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے دکانیں بند ہےں۔ اس صورتحال میں گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شادی کا موسم تھا ، اس مرتبہ ہمارے لئے دیوالی کا تہوارتھا ، لیکن اس کورونا انفیکشن کی وجہ سے ہم سب فاقہ کشی پرمجبورہیں۔
وہیں روشن پورہ علاقے میں رہنے والے زیادہ تر افراد یا تو میکینک شاپ چلاتے ہیں یا سبزی وغیرہ بیجتےہیں۔ لیکن لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے پولیس انہیں ٹھیلہ بھی لگانے نہیں دیتی ہے۔ اسی کے ساتھ ، جن کے پاس پان کی گمٹھی تھی وہ بھی بند ہیں۔ اس صورت میں ان لوگوں کاگزربسر مشکل ہوگیا ہے۔ اب لوگ لاک ڈاو¿ن سے خوفزدہ ہونے لگے ہیں۔ گھر میں کھانے پینے کے لئے کچھ بھی نہیں بچاہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ لاک ڈاو¿ن4 کو نافذ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر لاک ڈاو¿ن4 کانفاذ ہوتاہے تو ہم بیماری سے نہیں بلکہ بھوک سے ہی مریں گے۔
جھگی بستیوں میں رہنے والوں کاکہنا ہے کہ لاک ڈاو¿ن 4 سے گھبراہٹ ہونے لگی ہے۔ہماری کوشش ہے کہ ہمیں صرف دو وقت کی روٹی مہیاہوجائے ۔