کمل ناتھ حکومت کو گرانے کےلئے سندھیا اور بی جے پی نے کیامعاہدہ کیاتھا: کانگریس


بھوپال:14مئی(نیانظریہ بیورو)
شیوراج کابینہ کی تشکیل کے بعد اس میں توسیع سے متعلق بیان بازی کا دور بدستور جاری ہے۔ سندھیا حامی وزیر گووند سنگھ راجپوت اور سابق وزیر امرتی دیوی کے بیان آنے کے بعد بہت سارے سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ ان دونوں رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ ، بی جے پی نے سندھیا کے حامیوں اور خودسندھیا کو وزیر بنانے کا وعدہ کیا تھا ، لہذا اب بی جے پی کو یہ وعدہ پورا کرنا چاہئے۔ کانگریس اب سندھیا کے حامیوں کے ان دعوو¿ں پر بی جے پی پر حملہ آور ہے۔ کانگریس ترجمان اجے سنگھ کا کہنا ہے کہ کمل ناتھ کی منتخب حکومت کو گرانے میں بی جے پی اورسندھیا کے درمیان کیا معاہدہ ہوا ہے ، دونوں فریقوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جانا چاہئے۔
اجے نے کہا کہ کورونا بحران کے درمیان ، ریاستی حکومت منفی حالات سے گزر رہی ہے اور عدم استحکام کا ماحول ہے۔ اس صورتحال میں سندھیا اور بی جے پی کو عوام کے سامنے آکر حقیقت بتانی چاہئے۔ تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ انہوں نے جو حکومت منتخب کی تھی اس کو کس طرح ایک معاہدے کے ذریعے ختم کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی اور جیوتی رادتیہ سندھیا ، جنھیں بی جے پی خود ویبھیشن(غدار) کہتی ہے۔ منتخب حکومت کو گرانے کے لئے جس طرح ان کے حامیوں اور اراکین اسمبلی نے مل کر کام کیا ، وہ بدعنوانی سے متعلق ایک بہت بڑا سودا تھا ، جو اب آہستہ آہستہ عام ہو رہا ہے۔
اجے سنگھ نے کہا کہ ، جس طرح سے وزیر گووند سنگھ راجپوت اور سابق وزیر امرتی دیوی عوامی طور پر کہہ رہے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اس معاہدے کے ذریعہ بنی ہے۔ لہذا اس معاملے کا سارامعاملہ عوام کے سامنے آنا چاہئے ، یہ عوام کا حق بن جاتا ہے۔ کورونا بحران کی حالت میں مدھیہ پردیش کو عدم استحکام کی فضا سے بچانے کے لئے ، جہاں لاکھوں مزدور گھر نہیں پہنچ پائے ، لوگوں کا علاج نہیں ہو رہا ہے ، وہیں بی جے پی صرف اپنی حکومت کو بچانے اور جوڑ توڑ میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کاکام صرف اقتدارحاصل کرناہے۔عوامی کام سے ان کادور دورتک کوئی واسطہ نہیں ہے۔