اگر سماجی تنظمیں مددکےلئے سرگرم نہ ہوتیں تو صورتحال مختلف ہوتی:مسلم کوآرڈی نیشن کمیٹی


بھوپال:12مئی(پریس ریلیز)
آپ کے شہر کی ذمہ داری سنبھالتے یعنی اس کا سربراہ بنتے وقت ریاست میں کورونا کا قہر زیراثر تھا ،کورونا جیسی بلا سے ریاست کی عوام کو بچانے جیسا اہم کام آپ کو کرنا تھا۔کورونا کا سماج اور عام عوام پر غلط اثر نہ پڑے اس کے لئے عوام کو بیدار اور انتظامات مہیا کرانے کےلئے خاص اقدام کرنا اس کام کا اہم مدعہ ہونا تھا۔
آپنے کورونا کے قہر کے دوران عوام کو بیدار کرنے اور ضروری سامان مہیا نہ کر تبلیغی جماعت کے سر ٹھیکرا پھوڑنے میں اپنی دلچسپی دکھائی، نیشنل میڈیا جو تبلیغ کے نام پر ہندوستانی مسلمانوں کو ملک کا غدار ثابت کرنے میں اپنا زور لگارہی تھی کا آپنے اپنے مختلف بیانوں کے ذیعہ ساتھ دیا، جس کی وجہ سے ریاست کی اکثریتوں اور مسلمانوں کی درمیان دوریاں پیدا ہوئی، میڈیکل ٹیسٹوں کے بعد تبلیغی جماعت سے جڑے ساتھی کورونا مثبت ثابت نہیں ہوئے میڈیا نے اپنے بیان بدلے لیکن میڈیا کی خبروں اور ریاست کے وزیراعلیٰ کے بیان اپنا کام کرچکا تھا،جس کی وجہ سے محکمہ پولس اور انتظامیہ کے سامنے بھی مسلمانوں کی شبیہ سماج کے دشمنوں کی شکل میںسامنے آئی۔ نتائج سامنے ہے کہ مسلمان مرداور عورتوں کو پولس اور انتظامیہ پریشان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہی ہے۔
کورونا متاثرہ 16مزدورریاست کے ہی تھے، جن کی زندگیاں ریل کی پٹریوں پر انتظامیہ کی لاپرواہی سے چلی گئی۔ ریاستی حکومت نے اپنی آمدنی کے لئے شراب کی دکانیں پولس کی نگرانی میں تو کھلوائی ،لیکن پوری ریاست میں غریب سبزی ٹھیلا ، پھل ٹھیلا، دودھ والوں کی پریشان کیا گیا جو مسلسل جارہی ہے۔مختلف علاقوں میں پولس اور انتظامیہ کے ذریعہ ان کا سامان توڑا پھوڑا یا لوٹ لیا گیا اور مخالفت کرنے پر لاٹھیاں ابھی بھی ماری جارہی ہیں۔ آج بھی ریاست سے مشورہ کرنے پر مزدور اور غریب مجبور ہیں۔
اگرعام عوام اور سماجی تنظمیں سرگرم ہوکر بھوکے پیاسوں کے لئے مسیحا ثابت نہ ہوتے تو لاکھوں لاشیں ریاست میں بکھری پڑی ہوتیں۔آپ سے سماج کے حق میں دی گئی اس تنظیم کا مطالبہ ہے کہ اپنا فرض ادا کریں۔ریاست میں امن کو قائم رکھیں،غریب ٹھیلے والوں ،دکان والوں کو پریشان کرنا بند کریں۔ بھوکوں کے کھانے پینے کا معقول انتظامات نہیں کئے گئے تو سماج میں کہیں چوری،ڈکیتی،لوٹ کھسوٹ،کالابازاری شروع نہ ہوجائے ، کیونکہ حالات کی آنارکی کی طرف جانے کا اندیشہ ہے۔ حکومت ،انتظامیہ اور محکمہ پولس کو انسانی حقوق کی پابندی کرنے اور پابندی کرانے والا بنائیں تاکہ اس تاریخی دور میں مدھیہ پردیش انسانی حقوق کے تحفظ کی مثالی ریاست بن کردنیاکے سامنے آئے۔